کالعدم جماعت اسلامی کا ماضی اور حال — Page 15
با تحت جنگ میں سلطنت کی امداد کی۔ان میں سب سے زیادہ حصہ اعلیحضرت نظام دکن کا تھا۔دوسری طرفت اعلیحضرت نے اپنی سلطنت کے تمام ذرائع دولت برطانیہ کے لئے وقف کر دیئے کیا دور این جنگ سرکارہ عالی کے تمام کارخانے سامان حرب کی تیاری کے لئے وقف رہے۔اور چار سال کی مدت میں انہوں نے وہی کچھ روپے کا سامان سلطنت برطانیہ کے لئے مہیا کیا۔اعلیحضرت نے اپنی عزیز رعایا کو ہزاروں کی تعداد میں بھرتی کر کے میدان جنگ میں جانیں قربان کرنے کے لئے بھیجا۔آغاز جنگ سے اختیامت تک دولت آصفیہ کی باضابطہ فوج جنگ کی عملی خدمات سر انجام دیتی رہی۔اور اس کا خرچ سر کار نظام نے اپنے خود اپنے سے دیا۔حکومت مہند کی شدید مشکلات کے زمانے میں پچاس لاکھ روپے کی چاندی کی اینٹیں مستحالہ دے کر اس کی مالی ساکھ کو بحال کیا۔اور اسی طرح کی بیش قیمت اور مخلصانہ امانتوں کی بدولت پخت نوشت سلطنت برطانیہ پر سے ٹل گیا۔جس میں اس کا برباد ہو جانا کوئی مشتبہ نہ تھا۔ر دولت آصفیہ اور حکومت برطانیہ صا۱۷ تا ۱۶۳) جناب د دری فضا کی خلاف مولوی سید احمدحسن صاحب کو ریاست حیدر آیا میں قیام پذیر ہوئے جب ساتواں پوری ہوا۔اور ابتدائی ایام تو ان کے ان ۲۵ ستمبر 19 کو میں اسلامی