اچھی کہانیاں — Page 21
۲۱ ہشاش بشاش اور دل غمگین ہوتا ہے؟ پھر بڑے بڑے حروف میں شعر لکھا تھا۔محمد پر ہماری جاں خدا ہے کہ وہ کوئے صنم کا راہنما ہے۔اگلا صفحہ پلٹا تو پورا شعروں سے مزین تھا۔پہلا شعر ہی دلوں کو کھینچے لینے والا تھا۔لکھا تھا۔محمود عمر میری کٹ جائے کاش یونی و ہو روح میری سجدہ میں سامنے خدا ہو برائی دشمنوں کی بھی نہ چاہیں کو ہمیشہ خیر ہی دیکھیں نگاہیں حاجتیں پوری کرینگے کیا تیری عاجز بشر ا کر بیاں سب حاجتیں حاجت روا کے سامنے رحمن اشعار پڑھتا جا رہا تھا اور ایک عجیب سرور کی کیفیت اس پر طاری تھی۔اتنے پیارے پیارے اشعار نہ جانے کس کے ہیں اس نے دل میں سوچا۔اگلے صفحہ پر تحریر تھا۔بروز ہفتہ صبح پانچ بجے امی جان نے نماز کے لئے اُٹھا یا مسجد میں جاکر نماز پڑھی۔درس القرآن کی کلاس لی۔دوستوں۔وں کے ساتھ کرکٹ کھیلی پھر گھر چلا آیا۔اسکول کا وقت ہو رہا تھا جلدی جلدی ناشتہ کیا، تیار ہو کر امی کو خدا حافظ کہا، امی نے حسب معمول میری پیشانی پر انگلی کی مدد سے دُعا لکھی۔یاحفیظ ، يَا عَزِیز یا رفیق۔اور میں اسکول کے لئے روانہ ہو گیا۔اسکول پہنچنے میں کچھ دیر ہو گئی کیونکہ گھر سے نکلا ہی تھا کہ محلہ کی ایک بزرگ خاتون نے کہا کہ بیٹا انڈے اور دودھ لا دو، میں انکار نہ کر سکا۔اسکول پہنچے میں کچھ دیر ہوگئی