کافر کون؟ — Page 299
299 ہے کہ کیا کوئی آدمی بتا سکتا ہے کہ فلاں خلافتی لیڈر نے خلافت کے روپے سے شراب پی رنڈی بازی کی یا کوئی دوسرا اور برا کام کیا ہم نے اور ہمارے بال بچوں نے اگر یہ روپیہ کھالیا تو کونسا گناہ کیا“ ( بحوالہ زجاجہ مصنفہ سید طفیل محمد شاہ صفحه 176 - 177 ) 8۔مولانا فضل الرحمن مولا نا نہیں بکا و سیاستدان، مولانا ڈیزل ،مولانا سپرے، ایک بدعنوان سیاستدان، یہودیوں کے شیرٹن ہوٹل میں عیاشیاں کرنے والا اور بل ادا کئے بغیر چابی سمیت رفو چکر ہو کر پاکستان کو بد نام کرنے والا شخص دیو بندی مولانا فضل الرحمن جمیعۃ العلماء اسلام کے صدر ہیں۔مذکورہ جمیعتہ ان کے ذریعہ وطن عزیز میں خالص اسلام پر مبنی معاشرہ قائم کرنا چاہتی ہے مگر دیگر دیو بندی اور بین الاقوامی مسلمان برداری میں ان کی تصویر مبارک کیا ہے۔دیو بند کے غالی فدائی جناب ہارون الرشید نشریا سے زمین پر آسمان نے تم کو دے مارا“ کے عنوان کے تحت مولانا کی بداعمالیوں کا نقشہ یوں کھینچتے ہیں۔اب دیو بند کی پاکستانی وارث جمیعہ علماء اسلام فنا اور تباہی کے دروازے پر کھڑی ہے۔نہیں معلوم کہ مولانا فضل الرحمن میں وہ کون سی خوبی ہے کہ جس کی بناء پر قرآن اور رسول کو دل سے راہنما ماننے والوں نے انہیں اپنا لیڈر بنالیا ہے۔گستاخی معاف وہ تو نفرت اور ر و عمل میں پیپلز پارٹی کے در پر سجدہ ریز ہو چکے ہیں۔خارجہ امور کی کمیٹی کی سر براہی اور اس کے نام پر بے دریغ سرکاری مراعات کسی امر کی علامت ہیں 1993ء میں اس سے انتخابی اتحاد اور اس کے نتیجے میں جماعت کی بربادی کیا ایسی چیز نہ تھی جس سے سبق سیکھا جاتا افسوس کہ وہ نہ سیکھ سکے اور اب ان کی شہرت ایک بد عنوان آدمی کی ہے کہ جب لوگ انہیں مولا نا ڈیزل اور مولا نا سپرے( کھاد) کہتے ہیں۔تو میں حیرت ا سے سوچتا ہوں کہ کیا خدا پرستوں کے قبیلے نے حالات سے اس درجہ مفاہمت کر لی ہے۔( روزنامہ خبریں 18 جولائی 1996 ، اشاعت خاص ) 9 مفتی کفایت اللہ، مولانا ظفر علی خاں سبحان الہند مولانا سعید احمد اور مولانا ثناء اللہ امرتسری علماء کرام نہیں مداری، اصلی ابلیس ، شرافت سے بری بلکہ خبیث شیطان ہیں مندرجہ بالا علماء کرام کسی تعارف کے محتاج نہیں۔تحریک پاکستان اور مخالفت احمدیت میں یہ نمایاں خدمات بجالانے والے بزرگ ہیں مگر ممتاز صحافی و عالم دین جناب سید حبیب کے نزدیک ان کے اخلاق فاضلہ کی تصویر کیا ہے پیش ہے۔سید صاحب ظفر علی خاں کے بارے فرماتے ہیں: