کافر کون؟ — Page 149
149 مد ان کی نماز اور آذان الگ ہے۔زکواۃ کے مسائل بھی الگ ہیں۔م نکاح اور طلاق وغیرہ کے مسائل بھی الگ ہیں۔حتی کہ موت کے بعد کفن دفن اور وراثت کے مسائل بھی الگ ہیں۔مضمون کے آخر میں حضرات علماء کرام سے گزارش کی گئی ہے کہ وہ اثنا عشری شیعوں کے کفر کے بارے میں اپنی ذمہ داری کب نبھائیں گے۔(ماہنامہ البینات کراچی جنوری فروری 1988 ، صفحہ 96) یہ کیا الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔۔۔شیعہ علماء کا جواباً ٹکا سا جواب جاؤ جاؤ سر کار، آپ سب تو 1400 سال سے ہی غلط ہو۔۔۔ہمارے اسی امتیاز سے تم نے قومی اسمبلی میں ہماری منتیں کر کے فائدہ اٹھایا اور قادیانیوں کو کا فر دلوایا اور آج ہمیں کا فر بنانے کی باتیں کرتے ہو۔۔۔شیعہ علماء کا چاروں گروپوں کو جوابی یادہانی اگر ہمارا نماز ، روزہ ، حج ، زکوۃ بھی تمہاری اور قادیانیوں کی طرح ایک سا ہوتا تو قومی اسمبلی میں قادیانی کبھی تم سے not muslim قرار نہ پاتے۔یاد کرو جب مرزا ناصر نے تمہاری تمام کتابیں اٹھا کر تمہارے منہ پر دے ماری تھیں اور پھر تم قومی اسمبلی کے کیفے ٹیریا میں سر جوڑ کر بیٹھے تھے کہ قادیانی تو ہر مسئلہ میں ہمارے اکابر کے ہی افکار پر چل رہے ہیں پھر ان کو کافر کیسے قرار دلوایا جائے اور پھر تم سب نے فیصلہ کیا کہ شیعہ علماء کو ڈھونڈا جائے کیونکہ ان کا نماز ، روزہ ، حج ، زکوۃ تفسیر سب الگ ہے اور پھر ہم نے یہ مسئلہ حل کیا اور احمدیوں کو not muslim قرار دلوایا۔وہ جو 40 تھے اور 40 سے اوپر کے تھے۔۔۔مشہور شیعہ عالم دین جناب عرفان حیدری حالیہ دور میں علماء کے شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کے اضافے کے مطالبے پر تبصرہ کرتے ہوئے ستمبر 1974ء کی قومی اسمبلی اور اس کی روئیداد علماء کو یاد دلاتے ہیں : میں نے یہ عرض کیا تھا کہ یہ سزا ہے باب علوم رسالت سے دوری کی کہ 1400 برس کے بعد بھی تمہیں مسلمان کہلوانے کے باوجود بھی اپنے مذہب کی وضاحت کرنا پڑ رہی ہے۔اگر 1400 برس پہلے مومن بن کر علی کے دروازے پر آجاتے تو نہ مذہب کی وضاحت کی ضرورت رہتی نہ ولدیت کی سند کی پہچان کی ضرورت تھی۔مذہب کے خانے میں اضافے کی جو بات کی جارہی ہے تو اس کے لئے مسلسل وضاحتیں بھی کی جارہی ہیں کہ یہ صرف چونکہ قادیانیوں کے نام بھی عام مسلمانوں کی طرح ہوتے ہیں اور انہیں قومی اسمبلی منارٹی ڈیکلیر کر چکی ہے اس لئے کفر