کافر کون؟ — Page 146
146 ارشاد فرمایا۔میں رب تعالیٰ کے نزدیک خاتم النبین ہو چکا تھا حالانکہ ابھی آدم علیہ السلام اپنے ضمیر میں جلوہ گر تھے۔“ مولوی عبدالاحد قادری لکھتے ہیں کہ : (مشکوۃ ورسائل نعیمیہ صفحہ 84) حضرت عرباض بن ساریہ سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اینم نے فرمایا: ”میں اللہ تعالیٰ کے ہاں اس وقت خاتم النبیین تھا جب ابھی حضرت آدم علیہ السلام مٹی ہی تھے۔“ مولوی اشرف سیالوی لکھتے ہیں: ( رسائل میلاد مصطفی ص 716 آنحضرت سال ایام حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق و ایجاد سے پہلے نبوت و رسالت اور خاتم النبیین کے منصب پر فائز تھے۔“ ( ملخصا تنویر الابصار صفحہ 77 ، بحوالہ سندیلوی کا چیلنج منظور ہے) کاظمی صاحب لکھتے ہیں: ”حدیث کا مطلب یہی ہے کہ میں فی الواقع خاتم النبین ہو چکا تھا نہ یہ کہ میرا خاتم النبیین ہو نا علم الہی میں مقدر تھا“۔(مسئلہ نبوت عند الشیخین صفحه 73) سیالوی صاحب ! آپ کا کیا پروگرام ہے۔یہ مولانا نانوتوی کے موافق تمہارے بزرگ ہوئے یا نہ اب ان کے کفر و ایمان کا مسئلہ نہ رہا۔بلکہ تمہارے ایمان کا مسئلہ بن گیا اب بھی ان کو بزرگ مانتے ہو تو تم بھی گئے اور اگر ان کو بھی کا فرما نو و یہ تم سے ہو نہ سکے گا کہ باپ کو بھی کا فر کہو۔کتاب حسام الحرمین کا حقیقی جائزہ صفحہ 123 تا136 مولفہ الیاس گھن مطلب دارالایمان پرنٹر فرسٹ فلورز بید سنٹر 40ار دو بازار لاہور مکتبہ اھل السنۃ والجماعة 87 جنوبی لاہور روڈ سرگودہا ) اعتراض نمبر 11 جب اہل السنتہ دیو بند کی طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ اعلیٰ حضرت نے تینوں عبارتوں کو آگے پیچھے کیوں کیا؟ تو بریلوی علامہ قسم شاه بخاری کود کر میدان میں آپکے اور کہنے لگے وہ تین عبارات علیحدہ علیحدہ بھی مستقل طور پر کفر یہ ہیں۔( حاشیہ جسٹس کرم شاہ کا تنقیدی جائزہ صفحہ (371) ابو کلیم محمد صدیق خانی بھی چلایا کہ : تحذیر الناس کی تینوں عبارتیں اپنی اپنی جگہ پر مستقل کفریہ عبارتیں ہیں“۔(افتخار اہلسنت صفحہ 71)