کافر کون؟ — Page 131
131 (ماہنامہ مہارت ، لاہور 13 فروری 1992 ء ) | ختم نبوت کے بعد اب ہمیں کسی معلم کسی الہام کسی کشف کی کوئی ضرورت نہیں۔ختم نبوت آف ندوہ مولوی ابوالحسن ندوی صاحب نے جماعت احمدیہ کے خلاف قادیانیت کے نام سے ایک مبسوط کتاب تحریر فرمائی ہے جسے انگریزی میں ترجمہ کر کے اندرون و بیرون ملک وسیع پیمانے پر پھیلایا گیا ہے۔آپ ختم نبوت کے متعلق یوں اظہار فرماتے ہیں: عقیدہ ختم نبوت در اصل نوع انسانی کے لیے ایک شرف امتیاز ہے وہ اس بات کا اعلان ہے کہ نوع انسانی سن بلوغ کو پہنچ گئی ہے۔اب انسان کو کسی نئی وحی کسی نئے آسمانی پیغام کی ضرورت نہیں اب آسمان کی طرف دیکھنے کی بجائے۔۔زمین کی طرف دیکھنے کی ضرورت ہے۔اگر ختم نبوت کا عقیدہ نہ ہوتا تو انسان ہمیشہ تذبذب اور غیر اعتمادی میں رہے گا۔وہ ہمیشہ زمین کی طرف دیکھنے کی بجائے آسمان کی طرف دیکھے گا۔وہ ہمیشہ اپنے مستقبل کی طرف سے غیر مطمئن ہو گا۔“ دوستو! اگر ایک منٹ کے لیے حمل رک جائے اور مندرجہ بالا مشہور اور مسلم علماء دین کی ختم نبوت کی تعریف کے ساتھ جماعت احمدیہ کے شدید مخالف پلیٹ فارم ، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے موقف کو بھی ملا کر پڑھ لیا جائے تو ہمیں اپنے گھر کی بدحواسیاں سمجھ میں آسانی سے آجائیں گی۔( قادیانیت صفحہ 182-185 ) آپ جو اپنی علمی قابلیت کے زور سے یہ منوانا چاہتے ہیں کہ لا نبی بعدی کے معنی یہ ہیں کہ نہ تو کوئی نیا نبی آسکتا ہے نہ پر انا اگر آپ کی یہ زور آوری چل جائے تو اس سے کیا خدا تعالیٰ کی انبیا علیہم السلام کی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ا صحابہ و تابعین کی آئمہ دین کی حمد مجدد دین امت کی حمد اکا بر ملت کی تجہیل و تکذیب لازم نہیں آئے گی“۔( نزول عیسی چند شبہات کا ازالہ مصنفہ مولانا یوسف لدھیانوی صفحه 42