کافر کون؟ — Page 113
113 ایک پادری صاحب کی للکار دوستو ! میں نے سورہ بنی اسرائیل ع۱۱ میں آپ صلی یا کی تم سے کفار کی آسمان پر چڑھنے والی demand اور اس کے جواب کو بھی چھوڑ دیا۔سورہ سبا : 25 آپ صلی شما یہ نام کے لئے وما ارسلنک الاكافة للناس، اور وما ارسلنک الا رحمة للعالمین کا عظیم ٹائٹل اور اسی کے ساتھ ساتھ سورہ مائدہ: 47 وسورہ حدید : 28 حضرت مسیح کے لئے انجیل ان کی شریعت اور سورہ صف وسورہ آل عمران : 50 بنی اسرائیل ان کی قوم کا اعلان کی بھی تو جیہات ڈھونڈ نا شروع کر دیں تا کہ آخری زمانے کی امت مسلمہ کی گمراہی کے دور میں جب ایمان ثریا ستارے پر چلا جائے گا اسلام کا صرف نام اور قرآن کے صرف حروف رہ جائیں گے، علماء دنیا کے بدترین مخلوق اور فتنوں کے بانی مبانی قرار پا جائیں گے مساجد خوبصورت اور ہدایت سے خالی ہو جائیں گی تا وہ حضرت مسیح جو صدیوں سے زندہ آسمان پر بیٹھے اس دن کا انتظار کر رہے ہیں فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے اتر سکیں۔میں مولانا کی یہ بات مان جاتا لیکن ایک پادری صاحب کی للکار نے مجھے اس غیر اسلامی، غیر حقیقی، غیر سائنسی غیر تاریخی اور غیر فطری سمجھوتے سے روک دیا۔میری دینی غیرت نے گوارا نہ کیا کہ شاہ جہاں، فخر کائنات ، تاجدار حرم ، سرکار دو عالم ، رحمت للعالمین ، صاحب طہ اور یسین، خاتم النبین پیوند خاک قرار دیئے جائیں ، مردہ اعلان کئے جائیں اور زندہ و جاوید ابدی زندگی مسیح کے حصے میں آئے۔کیا میں یہ سمجھوتا کرلوں؟کیا میں پادری صاحب کی بات مان لوں؟ حیات مسیح کے عقیدے نے مجھ سے اک قربانی مانگی۔اک سوال کیا۔میں نے اپنے آپ کو ٹولا۔اپنے ایمان اور ضمیر کے ساتھ ساتھ اپنی غیرت کو پکارا۔سوال کو دہرایا۔بار بار دہرایا۔اپنے آپ سے بار بار پوچھا کہ مسلمان ہوتے ہوئے ، جب مصطفی سلیم اسلام کا دعوی ہوتے ہوئے بھی کیا میں پادری صاحب کے اس دعوئی کو قبول کر سکتا ہوں جواب ہر بارنفی میں ملا اور یہی نفی میری ستر ہو میں مشکل بن گئی ہے۔مکرم پادری اسلم صاحب مسیح کی شان از روئے قرآن نامی اپنی کتاب میں اپنا دعوئی اور دلیل یوں پیش کرتے ہیں: