جوئے شیریں

by Other Authors

Page 21 of 107

جوئے شیریں — Page 21

۲۲ کوئی مردوں سے کبھی آیا نہیں یہ تو فرقاں نے بھی بتلایا نہیں اسے عزیز و سوچ کر دیکھو خدا موت سے بچتا کوئی دیکھا پھیلا کیوں بنایا ابن مریم کو خدا سنت اللہ سے وہ کیوں باہر رہا تقویٰ عجب گوہر ہے جس کا نام تقوی مبارک وہ ہے جس کا کام تقوی سنو ہے حاصل اسلام تقومی خدا کا عشق ہے اور حام تقویٰ مسلمانو! بناؤ تام تقولے کہاں ایہاں اگر ہے خام تقوی یہ دولت تو نے مجھ کو اسے خدادی فَسُمَانَ الَّذِي اخْتَرَى الْكَمَادِي مراک نیکی کی جڑ یہ اتقا ہے اگر یہ بڑھ رہی سب کچھ رہا ہے" الباقی مصر) "