جذبۃ الحق — Page 35
35 وقت آپ نے۔اگر فی الواقع یہ شخص مامور من اللہ تھا تب جتنے لوگوں نے اس سے مخالفت کی اپنے لئے جہنم کی راہ صاف کی۔العیاذ باللہ من ذالک۔میرے اس آخری کلام کا کوئی جواب مولوی عبدالباری صاحب نے نہ دیا۔الخصر اس قدر گفتگو کے بعد حضرت مولانا عبدالحی صاحب مرحوم کے نواسے آگئے۔خاکسار ان کی احوال پرسی میں مشغول ہو گیا اور اس طرح سلسلہ گفتگو قطع ہو گیا۔مخفی نہ رہے کہ سے تھی تو اس وقت ایک نو جو ان عبدالشکور نام کسی کسی وقت بول اٹھتا تھا۔لیکن نوجوان بول ن عبد الباری فلو ہو رہی میں نے اس کو باقابل خطاب کوئی جواب نہ دیا۔الغرض وہاں سے رخصت ہو کر میں نے مولوی عین القضاۃ صاحب سے ملنے کی کوشش کی۔لیکن چونکہ وہ دن یوم جمعہ تھا اس وجہ سے قبل نماز جمعہ ان سے ملاقات نہ ہو سکی۔اور بعد نماز جمعہ اگر چہ ملاقات ہوئی۔لیکن وہ ان باتوں کی طرف متوجہ نہ ہوئے۔اور گریز کرتے رہے۔آخر میں وہاں سے اٹھ کر چلا آیا۔اور اسی دن لکھنو سے روانہ ہو کر شام کو شاہجہانپور پہونچا جہاں جناب سید مختار احمد صاحب احمدی کے مکان پر قیام ہوا۔وہ نہایت خاطر و تواضع کے ساتھ پیش آئے اور باصرار تمام ایک دن اپنے پاس مقیم رکھا سید مختار احمد صاحب کے پاس جانے کی ایک وجہ یہ بھی ہوئی کہ جناب مفتی محمد صادق صاحب نے خاکسار کو ایک مرتبہ لکھا تھا کہ اگر مولوی احمد رضا خاں صاحب بریلوی سے لمنا منظور ہو تو پہلے شاہجہانپور کے سید مختار احمد صاحب سے ان کا حال دریافت کر لینا۔پس ان سے مولوی احمد رضا خاں صاحب کے حالات جس قدر بھی ہو سکا۔دریافت کر کے شاہجہانپور سے بریلی کی طرف روانہ ہوا۔اور شام کو وہاں پہنچ کر سرائے میں جا اترا۔دوسرے دن حکم می مولوی امداد علی صاحب کو ہمراہ لے کر