جنت کا دروازہ

by Other Authors

Page 82 of 143

جنت کا دروازہ — Page 82

82 اگلے ہی روز بہت منہ اندھیرے آپ ان کی قبر پر دعا کے لئے تشریف لے گئے۔" (ماہنامہ خالد و سمبر 1985 صفحہ 88) محترم چوہدری حمید نصر اللہ صاحب امیر ضلع لاہور بیان کرتے ہیں:۔جب بھی طبیعت ناساز ہوتی ہمیشہ اپنی بیٹی کو بلایا کرتے تھے۔مجھ سے بارہا کہا کہ اعتہ اکئی کے آجانے سے مجھے اطمینان ہو جاتا ہے اور وہ کچھ ایسا کرتی ہے کہ میری طبیعت سے بے چینی دور وہ جاتی ہے۔کئی مرتبہ اپنی بیٹی کو پاس بٹھا کر جبکہ خود لیٹے ہوتے تھے فرمایا کرتے تھے تم اونچی آواز میں دعائیں پڑھو۔میں تمہارے ساتھ دہراؤں گا اس سے مجھے بہت سکون ملتا ہے اور باپ بیٹی یہ عمل دیر تک کرتے رہتے تھے۔اس بات کا اظہار فرماتے کہ تمہاری شکل ہے بے جی سے ملتی ہے۔ایک دفعہ لتہ الکئی دفعہ کمرے میں آئیں اور کوئی بات ایسی محبت سے عرض کی کہ بابا جی نے یکدم اوپر دیکھا تو آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔ایسی حالت ہو گئی کہ امتہ ائی جس قدر تسلی اور شفقت سے اس حالت سے نکالنے کی کوشش کرتیں اسی قدر اثر زیادہ ہوتا۔یہاں تک کہ امتہ ائی کے لئے ممکن نہ تھا کہ وہاں ٹھہرے اور اپنے کمرے میں چلی گئی۔بابا جی نے فرمایا آج لتہ اٹھی کو دیکھا تو یوں لگا کہ بے بے جی ہیں اور طبیعت بے چین ہو گئی۔تین روز تک یہ حالت رہی کہ تمام وقت آنسو رواں رہے۔اور باپ بیٹی دونوں ایک ایسی حالت میں تھے کہ نہ باپ کو جذبات پر ایسا قابو آیا کہ وہ بیٹی کو بلائے اور نہ ہی بیٹی کو ہمت ہوئی کہ باپ کے پاس جائے۔جذبات محبت سے مغلوب ایک دوسرے کی خیریت معلوم کر لیتے تھے۔“ انصار اللہ نومبر 1985 ء صفحہ 142)