جنت کا دروازہ — Page 13
13 یعنی حضور نے تین بار فرمایا کیا میں تمہیں بڑے بڑے گناہوں کے متعلق نہ بتاؤں۔صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ضرور بتائیں۔آپ نے فرمایا اللہ کا شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔پھر آپ جوش میں آ کر بیٹھ گئے اور فرمایا سنو خبر دار جھوٹ نہ بولنا۔آپ نے اس بات کو اتنی دفعہ دہرایا کہ ہم نے چاہا کاش حضور خاموش ہو جائیں۔سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الرابع ایده بنصرہ العزیزان بیان کردہ تینوں امور کا تعلق بیان کرتے ہوئے فرمایا ہیں۔جھوٹ سب گناہوں کی جڑ ہے۔شرک بھی جھوٹ کا ہی نام ہے اور ماں باپ کی نافرمانی کرنا بھی ایک جھوٹ ہے۔یہ ایک ایسی بیماری ہے جو ہر شرک کی جڑ اپنے اندر رکھتی ہے ہر نا شکری کی جڑ اپنے اندر رکھتی ہے پس توحید کے منافی ایک ایسا گناہ ہے جو تو حید کے ہر پہلو سے اس کی حقیقت کو چاٹ جاتا ہے کچھ بھی باقی نہیں رہتا اور احسان مندی احسان کے خیال یا شکر گزاری کے جذبات کو بھی کلیہ چٹ کر جاتا ہے۔جھوٹے لوگ نہ اپنے ماں باپ کے ہوتے ہیں نہ خدا کے ہوتے ہیں۔ماں باپ کا ذکر خدا کے بعد اس تعلق میں بیان فرمایا گیا ہے اس نسبت سے بیان فرمایا گیا ہے کہ سب سے بڑا رشتہ تخلیق کا رشتہ ہے۔خدا چونکہ خالق ہے اس لئے سب سے زیادہ اس کا حق ہے اور خدا کے بعد چونکہ ماں باپ تخلیق کے عمل میں بنی نوع انسان میں سب سے زیادہ حصہ لیتے ہیں تمام رشتوں میں سب سے زیادہ تخلیقی عمل میں حصہ لینے والے ماں باپ ہوتے ہیں اس لئے خدا کے بعد اگر کسی کا حق ہے تو ماں باپ کا ہے اور جھوٹ ان دونوں کو تلف کر دیتا ہے۔خطبہ جمعہ 24 مئی 1996 مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل 12 جولائی 1996ء)