جنت کا دروازہ — Page 5
5 احسان نہیں اتر سکتا حضرت ابوھریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا:۔لا يَجْزِى وَلَد وَالِداً إِلَّا أَن يَجِدَهُ مَمْلُوكًا فَيَشْتَرِيهِ فَيُعْتِقَهُ (صحیح مسلم کتاب الحق باب فضل حق الوالد حدیث نمبر 2779) یعنی کوئی بیٹا اپنے والد کے احسانات کا بدلہ نہیں اتار سکتا سوائے اس کے کہ باپ کسی کا غلام ہو۔اور بیٹا اسے خرید کر آزاد کر دے۔علامہ شہاب الدین احمد قلیو بی شافعی رحمہ اللہ (1069ھ ) تحریر فرماتے ہیں۔ایک بزرگ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ایک بوڑھی عورت کو کندھے پر اٹھائے بیت اللہ کا طواف کر رہا ہے بزرگ نے اس شخص سے عورت کے متعلق استفسار کیا تو اس نے بتلایا کہ یہ میری ماں ہے اور میں سات برس سے اسی طرح اٹھائے ہوئے ہوں۔میرے آقا یہ بتلائیے کہ کیا میں نے اس کا حق ادا کر دیا ہے وہ بزرگ بولے نہیں ہرگز نہیں اگر تمہاری عمر ہزار برس بھی ہو جائے اور تم اسے اسی طرح اٹھائے رہو تو تمہارا یا اٹھانا ان راتوں میں سے ایک رات کے برابر بھی نہیں ہو سکتا جس میں تمہاری والدہ تمہیں گود میں لیکر کھڑی رہی تھی اور تمہیں اپنے پستانوں سے دودھ پلا رہی تھی۔( علمی ادبی تاریخی جواہر پارے۔از نعیم الدین ناشر مکتب الخیر اردو بازار لاہور ) امر واقعہ یہ ہے کہ انسان نہ اللہ کا احسان اتار سکتا ہے نہ والدین کا کیونکہ وہ زمین پر خدا کی خالقیت اور ربوبیت کے بہترین مظہر ہیں۔یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنی توحید اور عبادت کے قیام کے ساتھ ہی والدین کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔