جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page viii of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page viii

vi عرض حال اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کی دی ہوئی توفیق سے خاکسار نے ۱۹۹۶ء میں ”“ کے موضوع پر ایک کتاب مرتب کی تھی جسے لجنہ اماءاللہ کراچی نے شائع کیا تھا۔اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے اس کتاب کو بہت پسند کیا گیا۔جس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ یہ کتاب جماعت احمدیہ کے تعارف کے پیش نظر جماعت احمدیہ کی مرکزی ویب سائٹ alislam۔org پر بھی موجود ہے۔یہ کتاب دس ابواب پر مشتمل تھی اور اس کے ۳۵۰ صفحات تھے۔اس کتاب کو مرتب کرتے وقت یہ کوشش کی گئی تھی کہ اس کتاب میں جماعت احمدیہ کے عقائد اور نظام جماعت کے متعلق بنیادی ضروری معلومات فراہم کر دی جائیں نیز ۱۹۹۶ء تک قائم ہونے والے تمام بڑے بڑے اور اہم جماعتی ادارہ جات، شعبہ جات ، ذیلی تنظیموں اور تمام بڑی بڑی اور اہم بابرکت تحریکات کا مختصر مگر جامع طور پر تعارف کروا دیا جائے۔اسی طرح جماعت احمدیہ کے آغاز سے لے کر اس کتاب کی اشاعت تک ہر شعبہ میں جماعتی ترقیات کے کوائف اور اعداد و شمار شامل کر دیئے جائیں۔تا کہ ایک ہی کتاب میں جماعت احمدیہ کا تمام پہلوؤں سے تعارف حاصل ہو سکے۔الحمد للہ کہ اس کتاب کا مطالعہ کرنے والے بیسیوں افراد کی طرف سے جو تبصرے اور تاثرات موصول ہوئے ان سے محسوس ہوا کہ اس مقصد کو حاصل کرنے میں کافی حد تک کامیابی حاصل ہوئی۔الحمد للہ علی ذالک خاکسار نے جب یہ کتاب جماعت احمدیہ کے ایک جید عالم، پسندیدہ مقر ر محتر راور مورخ احمدیت حضرت مولانا دوست محمد شاہد صاحب کی خدمت میں پیش کی تو حضرت مولانا نے اس وقت اس کتاب کی فہرست مضامین اور پھر کچھ ورق گردانی کرنے کے بعد فرمایا کہ۔ما شاء اللہ آپ نے تو یہ جماعت احمدیہ کا ایک چھوٹا سا انسائیکلو پیڈیا تیار کر دیا ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی جزائے خیر عطا فرمائے۔آمین اس کتاب کی اشاعت کے چند سال بعد فضل عمر فاؤنڈیشن ربوہ کی انعامی سکیم کے تحت خاکسار کا تحریر کردہ ایک انعام یافتہ مقالہ بعنوان: حضرت مسیح موعود کے چیلنج اور مخالفین کا رد عمل ونتائج و اثرات