جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 643
643 شاعر مشرق علامہ اقبال: پنجاب میں اسلامی سیرت کا ٹھیٹھ نمونہ اس جماعت کی شکل میں ظاہر ہوا ہے جسے فرقہ قادیانی کہتے ہیں۔“ ملت بیضا پر ایک عمرانی نظرص ۱۸،۱۷ مطبوعہ مرغوب احسنی مترجم مولانا ظفر علی خاں ایڈیٹر زمیندار اخبار۔لاہور ) جناب مولا نا محمد علی جو ہر ایڈیٹر ہمدرد اخبار دہلی: ناشکر گزاری ہوگی کہ جناب مرزا بشیر الدین محمود احمد اور ان کی اس منظم جماعت کا ذکر ان سطور میں نہ کریں جنہوں نے اپنی تمام تر تو جہات بلا اختلاف عقیدہ تمام مسلمانوں کی بہبودی کے لئے وقف کر دی ہیں۔یہ حضرات اس وقت اگر ایک جانب مسلمانوں کی سیاسیات میں دلچسپی لے رہے ہیں تو دوسری طرف تبلیغ اور مسلمانوں کی تنظیم و تجارت میں بھی انتہائی درجہ سے منہمک ہیں اور وہ وقت دور نہیں جبکہ اسلام کے اس منظم فرقہ کا طرز عمل سواد اعظم اسلام کے لئے بالعموم اور ان اشخاص کے لئے بالخصوص جو بسم اللہ کے گنبدوں میں بیٹھ کر خدمات اسلام کے بلند بانگ و در باطن پیچ دعاوی کے خوگر ہیں۔مشعل راہ ثابت ہو گا۔جن اصحاب کو جماعت قادیان کے اس جلسہ عام میں جس میں مرزا صاحب موصوف نے اپنے عزائم و طریق کار پر اظہار خیالات فرمایا۔شرکت کا شرف خاص ہوا وہ ہمارے خیال کی تائید کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔“ (اخبار ہمدردی دہلی ۲۶ ستمبر ۱۹۲۷ء) جناب خواجہ حسن نظامی صاحب دہلوی سجادہ نشین نظام الدین اولیاء نے اپنی کتاب مسلمان مہارانا‘ میں لکھا:۔اگر چہ میں قادیانی عقیدہ کا نہیں ہوں۔نہ کسی قسم کا میلان میرے دل میں قادیانی جماعت کی طرف ہے۔لیکن میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ قادیانی جماعت اسلام کے حریفوں کے مقابلہ میں بہت مؤثر اور پر زور کام کر رہی ہے۔“ ( بحوالہ الفصل ۳۱ رمئی ۱۹۲۷ء) جناب مولا نا عبد الحلیم صاحب شر لکھنوی ایڈیٹر ” دلگداز“ لکھتے ہیں:۔آجکل احمدیوں اور بہائیوں میں مقابلہ و مناظرہ ہو رہا ہے اور با ہم رد و قدح کا سلسلہ جاری ہے۔مگر دونوں میں اصل فرق یہ ہے کہ احمدی مسلک شریعت محمدیہ کو اسی قوت اور شان سے قائم رکھ کر اس کی مزید تبلیغ و اشاعت کرتا ہے۔اور بہائی مذہب شریعت عرب (اسلام) کوای منسوخ شده