جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 616 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 616

616 شہدائے گھٹیالیاں مورخه ۱/۳۰ اکتوبر ۲۰۰۰ء کو صبح چھ بجے کے قریب گھٹیالیاں خوردضلع سیالکوٹ کے شرقی جانب واقع جماعت احمدیہ کی بیت الذکر میں نامعلوم نقاب پوشوں کی فائرنگ سے ٫۵احباب راہ مولا میں قربان ہو گئے۔ان کے علاوہ چھ احمدی احباب سخت زخمی ہوئے۔تفصیلات کے مطابق صبح نماز فجر کی ادائیگی کے بعد درس قرآن کریم ہوا۔درس ختم ہونے کے بعد ایک نو جوان باہر نکلا تو ایک نقاب پوش نے جو سن میں موجود تھا اسے بندوق کا بٹ مارا اور اسے بیت الذکر کے اندر دھکا دیا جس سے وہ گر گیا۔باقی نمازیوں نے باہر نکلنے کی کوشش کی مگر دہشت گردوں نے بیت الذکر کے اندر ہی روک کر کلاشنکوف کا برسٹ مارا جس کے بعد اسی نقاب پوش نے اپنے ساتھی سے کلاشنکوف لے کر دوسرا برسٹ مارا اس کے نتیجے میں دو احمدی دوست موقعہ پر راہ مولا میں قربان ہو گئے جبکہ باقی ۳ / احباب ہسپتال جاتے ہوئے شہر ہو گئے راہ مولا میں قربان ہونے والوں کے نام درج ذیل ہیں۔۱۸۱ مکرم افتخار احمد صاحب ولد محمد صادق صاحب گھٹیالیاں ضلع سیالکوٹ ۱۸۲ مکرم شہزاد احمد صاحب ولد محمد بشیر صاحب گھٹیالیاں ضلع سیالکوٹ ۱۸۳ مکرم عطاء اللہ صاحب ولد مولا بخش صاحب گھٹیالیاں ضلع سیالکوٹ ۱۸۴ مکرم غلام محمد صاحب ولد علی محمد صاحب گھٹیالیاں ضلع سیالکوٹ ۱۸۵ مکرم عباس احمد صاحب ولد فیض احمد صاحب گھٹیالیاں ضلع سیالکوٹ شہدائے تخت ہزارہ ضلع سرگودھا ۳۰_۱۰_۲۰۰۰ ۳۰_۱۰_۲۰۰۰ ۳۰_۱۰_۲۰۰۰ ۳۰_۱۰_۲۰۰۰ ۳۰_۱۰_۲۰۰۰ مورخه ۱۰ نومبر ۲۰۰۰ ء بروز جمعہ المبارک جماعت احمدیہ تخت ہزارہ ضلع سرگودھا کے پانچ احمدی معاندین کے تشد داور فائرنگ سے مسجد احمدیہ میں شہید ہو گئے۔اس اشتعال انگیز اور پر تشد دواقعہ میں چند احمدی زخمی بھی ہوئے۔اس گاؤں میں مولوی اطہر شاہ نے گزشتہ ایک عرصہ سے جماعت کے خلاف سب وشتم اور اشتعال انگیزی کا بازار گرم کر رکھا تھا۔۱۰ار نومبر کو عصر کے بعد اس نے اپنے غنڈوں کے ہمراہ گاؤں کی گلیوں میں احمدیوں کے گھروں کے باہر غلیظ گالیاں نکالنی شروع کیں۔احمدیوں نے صبر سے کام لیا۔عشاء کے وقت طے شدہ منصوبہ کے تحت چار مساجد سے اعلان ہوا اور دو اڑھائی صد افراد ڈنڈے اور کلہاریاں لے کر احمد یہ