جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 610 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 610

610 شہدائے ۱۹۵۳ء ۱۹۵۳ء میں جماعت احمدیہ کے خلاف تحریک ختم نبوت کے تحت با قاعدہ طور پر ایک تحریک چلائی گئی۔جس کو پنجاب حکومت کی پشت پناہی حاصل تھی۔اس تحریک کے دوران چھ ۶ راحمد یوں کو راہ مولیٰ میں اپنی جان قربان کر کے شہادت کا رتبہ پانے کی توفیق ملی۔ان شہداء کی تفصیل حسب ذیل ہے۔ے۔ماسٹر منظور احمد صاحب مدرس باغبانپورہ اے محمد شفیع صاحب مغلپورہ ۷۲۔جمال احمد صاحب بھاٹی گیٹ۔مرزا کریم بیگ صاحب فلیمنگ روڈ ۷۴۔ایک احمدی عطارصاحب گندہ انجن ۷۵۔حوالدار عبدالغفور صاحب ولد الہی بخش صاحب ۷۶۔داؤد جان صاحب لاہور ۵ / مارچ ۱۹۵۳ء لاہور ۶ / مارچ ۱۹۵۳ء لاہور ۶ / مارچ ۱۹۵۳ء لاہور ۶ / مارچ ۱۹۵۳ء لاہور ۸ مارچ ۱۹۵۳ء لاہور ۸ مارچ ۱۹۵۳ء ۱۹۵۶ء تا ۱۹۶۹ء ے۔حاجی فضل محمد خاں صاحب گاؤں نزد پیواڑ کو تل افغانستان ۷۸۔محمد احمد صاحب رہ سبز کابل افغانستان تاریخ شہادت فروری ۱۹۵۶ء تاریخ شہادت ۱۹۵۷ء افغانستان تاریخ شہادت ۱۹۵۷ء ۷۹۔مولوی عبدالحق صاحب نور کرونڈی خیر پور سندھ ۲۱ دسمبر ۱۹۶۶ء ۸۰۔ماسٹر غلام حسین صاحب ولد عبدالکبیر بٹ صاحب گلگت اکتوبر ۱۹۶۷ء قبولہ ۱۳ / جون ۱۹۶۹ء ۸۱۔چوہدری حبیب اللہ صاحب شہدائے ۱۹۷۴ء ۱۹۷۴ء میں ایک بار پھر جماعت احمدیہ کے خلاف ایک سوچی سمجھی سکیم کے تحت تحریک چلائی گئی۔اور اس تحریک کے دوران جماعت احمدیہ کو جانی اور مالی لحاظ سے بہت زیادہ نقصان پہنچایا گیا۔نیز جماعت احمدیہ کو غیر مسلم قرار دے دیا گیا۔اس تحریک کے دوران ۲۶ احمدیوں کو شہید کر دیا گیا جن کی تفصیل حسب ذیل ہے۔