جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 444
444 انصار اللہ کا قیام سید نا حضرت مصلح موعود کی راہنمائی اور نگرانی میں ۱۹۲۲ء سے عورتوں کی تربیت کے لئے لجنہ اماءاللہ اور ۱۹۳۸ء سے نوجوانوں کی تربیت کے لئے مجلس خدام الاحمدیہ کی تنظیمیں قائم تھیں۔اور بہت جوش و خروش سے اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہی تھیں اور ان کی وجہ سے جماعت میں خدمت دین کا ایک خاص ماحول پیدا ہو چکا تھا۔مگر ایک تیسرا طبقہ ابھی باقی تھا جو اپنی پختہ کاری، لمبے تجربہ اور فراست کے اعتبار سے اگر چہ سلسلہ احمدیہ کی بہترین خدمات بجالا رہا تھا۔مگر کسی مستقل تنظیم سے وابستہ نہ ہونے کے باعث قوم کی اجتماعی تربیت میں پورا حصہ نہیں لے سکتا تھا۔حالانکہ اپنی عمر اور تجربہ کے لحاظ سے قومی تربیت کی ذمہ داری براہ راست اسی پر پڑتی تھی۔علاوہ ازیں خدام الاحمدیہ کے نوجوانوں کے اندر خدمت دین کے جوش کا تسلسل قائم رکھنے کے لئے بھی ضروری تھا۔کہ جب جوانی کے زمانہ کی دینی ٹریننگ کا دور ختم ہو اور وہ عمر کے آخری حصہ میں داخل ہوں۔تو وہ دوبارہ ایک تنظیم ہی کے تحت اپنی زندگی کے بقیہ ایام گزار ہیں۔اور زندگی کے آخری سانس تک دین کی نصرت و تائید کے لئے سرگرم عمل رہیں۔حضور کو مجلس خدام الاحمدیہ کی بنیادر کھتے وقت بھی اس اہم ضرورت کا شدید احساس تھا۔مگر حضور چاہتے یہ تھے کہ پہلے خدام الاحمدیہ کی رضا کارانہ تنظیم کم از کم قادیان میں اپنے پاؤں پر کھڑی ہو جائے تو بتدریج کوئی نیا عملی قدم اٹھایا جائے چنانچہ دو اڑھائی سال کے بعد جبکہ یہ مجلس حضور کی تجویز فرمودہ لائینوں پر چل نکلی اور نوجوانوں نے رضا کارانہ طور پر حضور کے منشاء مبارک کے مطابق کام کرنے کا پوری طرح اہل ثابت کر دکھایا۔تو ۲۶ جولائی ۱۹۴۰ء کو حضور نے مجلس انصار اللہ کو قائم فرما دیا۔اور اس موقع پر حضور نے مجلس انصار اللہ کی نسبت بعض ہدایات بھی دیں۔جن کا تذکرہ حضور کے اپنے الفاظ میں مناسب ہوگا۔فرمایا:۔چالیس سال سے اوپر عمر والے جس قدر آدمی ہیں وہ انصار اللہ کے نام سے اپنی ایک انجمن بنائیں اور قادیان کے وہ تمام لوگ جو چالیس سال سے اوپر ہیں اس میں شریک ہوں۔ان کے لئے بھی لازمی ہوگا۔کہ وہ روزانہ آدھ گھنٹہ خدمت دین کے لئے وقف کریں۔اگر مناسب سمجھا گیا تو بعض لوگوں سے روزانہ آدھ گھنٹہ لینے کی بجائے مہینہ میں تین دن یا کم و بیش اکٹھے بھی لئے جاسکتے ہیں۔مگر بہر حال تمام بچوں ، بوڑھوں اور نو جوانوں کا بغیر کسی استثناء کے قادیان میں منظم ہو جانا لازمی ہے۔“