جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 7 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 7

7 قرآن کریم ا وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيم۔(سورة الجمعة : ۴) اور ان کے سوا ایک دوسری قوم میں بھی (وہ اسے بھیجے گا ) جو ابھی تک ان سے ملی نہیں اور وہ غالب اور حکمت والا ہے۔(بخاری کتاب التفسير سورة جمعة و مسلم ) عَنْ أَبِي هُرَيْرَة رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا جَلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ نَزَلَتْ عَلَيْهِ سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ فَلَمَّا قَرَأَ : وَاخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ، قَالَ رَجُلٌ مَّنْ هَؤُلَاءِ يَارَسُوْلَ اللهِ، فَلَمْ يُرَاجِعُهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَأَلَهُ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ اَوْ ثَلَاثًا قَالَ وَفِينَا سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ قَالَ فَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى سَلْمَانَ ثُمَّ قَالَ لَوْ كَانَ الْأَيْمَانُ عِنْدَ الثَّرَيَّا لَنَالَهُ رِجَالٌ مِّنْ هَؤُلَاءِ۔حضرت ابو ہریرۃ " بیان کرتے ہیں کہ ہم آنحضرت ﷺ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ پر سورۃ جمعہ نازل ہوئی۔جب آپ نے اس کی آیت وَ آخِرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِھم پڑھی۔جس کے معنی یہ ہیں کہ کچھ بعد میں آنے والے لوگ بھی ان صحابہ میں شامل ہوں گے جو ابھی ان کے ساتھ نہیں ملے۔تو ایک آدمی نے پوچھا۔یا رسول اللہ ! یہ کون لوگ ہیں جو درجہ تو صحابہ کا رکھتے ہیں لیکن ابھی ان میں شامل نہیں ہوئے۔حضور نے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔اس آدمی نے دو یا تین دفعہ یہی سوال دہرایا۔راوی کہتے ہیں کہ حضرت سلمان ہم میں بیٹھے تھے۔آنحضرت ﷺ نے اپنا ہاتھ ان کے کندھے پر رکھا اور فرمایا۔اگر ایمان ثریا کے پاس بھی پہنچ گیا یعنی زمین سے اٹھ گیا تو ان لوگوں میں سے کچھ لوگ اس کو واپس لے آئیں گے۔( یعنی آخرین سے مراد بنائے فارس ہیں جن میں سے مسیح موعود ہوں گے اور ان پر ایمان لانے والے صحابہ کا درجہ پائیں گے۔) ۲- هُوَ الَّذِى اَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِه۔(الصف: ١٠) وہی خدا ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تا کہ وہ اس ( دین ) کو تمام ادیان پر غالب کر دے۔اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے:۔ذلِكَ عِندَ نُزُولِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَحِينَ تَصِيرُ الْمِلَّةُ وَاحِدَةً۔“ (ابن جرير جلد ۲۸ ص (۵۳