جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 396 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 396

396 (۳) تحریک جدید کے عظیم الشان نتائج کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔وو تم اگر تحریک جدید پر عمل شروع کر دو تو آج یا کل پرسوں نہیں جب خدا تعالیٰ کی مرضی ہوگی تمہاری قوم کو ضرور بادشاہت مل جائے گی۔“ خطبه جمعه فرموده ۴ / دسمبر ۱۹۳۶ء الفضل ۱۲؍ دسمبر ۱۹۳۶ء) (۴) یہ دراصل اس عظیم الشان روحانی انقلاب کا ایک منظر ہے جو مستقبل میں جلد یا بدیر تحریک جدید کے ذریعہ سے رونما ہونے والا ہے اور جس کے نتیجہ میں تحریک جدید کی پانچیز اری فوج کا لاکھوں تک پہنچنا اور پھر دنیا کے مغربی نظاموں کی جگہ اسلام کے نظام نو کی تعمیر مقدر ہے۔چنانچہ حضرت خلیفہ امسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے ایک بار بالصراحت فرمایا تھا۔”جب ہم نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ ہم محمد رسول اللہ اللہ کے نام کو دنیا میں پھیلائیں گے اور اسلام کے جلال اور اس کی شان کے اظہار کے لئے اپنی ہر چیز قربان کر دیں گے تو ہمیں ان تبلیغی سکیموں کے لئے جس قدر روپیہ کی ضرورت ہوگی اس کو پورا کرنا بھی ہماری جماعت کا ہی فرض ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ساری دنیا میں صحیح طور پر تبلیغ اسلام کرنے کے لئے ہمیں لاکھوں مبلغوں اور کروڑوں روپیہ کی ضرورت ہے۔جب میں رات کو اپنے بستر پر لیٹتا ہوں تو بسا اوقات سارے جہان میں تبلیغ کو وسیع کرنے کے لئے میں مختلف رنگوں میں اندازے لگاتا ہوں۔کبھی کہتا ہوں کہ ہمیں اتنے مبلغ چاہئیں اور کبھی کہتا ہوں اتنے مبلغوں سے کام نہیں بن سکتا اس سے بھی زیادہ مبلغ چاہئیں۔یہاں تک کہ بعض دفعہ نہیں ہیں لاکھ تک مبلغین کی تعداد پہنچا کر میں سو جایا کرتا ہوں۔میرے اس وقت کے خیالات کو اگر ریکارڈ کیا جائے تو شاید دنیا یہ خیال کرے کہ سب سے بڑا شیخ چلی میں ہوں۔مگر مجھے اپنے خیالات واندازوں میں اتنا مزہ آتا ہے کہ سارے دن کی کوفت دور ہو جاتی ہے۔میں کبھی سوچتا ہوں کہ پانچ ہزار مبلغ کافی ہوں گے۔پھر کہتا ہوں پانچ ہزار سے کیا بن سکتا ہے دس ہزار کی ضرورت ہے پھر کہتا ہوں دس ہزار بھی کچھ چیز نہیں۔جاوا میں اتنے مبلغوں کی ضرورت ہے سماٹرا میں اتنے مبلغوں کی ضرورت ہے۔چین اور جاپان میں اتنے مبلغوں کی ضرورت ہے۔پھر میں ہر ملک کی آبادی کا حساب لگاتا ہوں اور پھر کہتا ہوں یہ مبلغ بھی تھوڑے ہیں اس سے بھی زیادہ مبلغوں کی ضرورت ہے یہاں تک کہ بیس ہیں لاکھ تک مبلغوں کی تعداد پہنچ جاتی ہے۔اپنے ان مزے کی گھڑیوں میں میں نے ہیں ہیں لاکھ مبلغ تجویز کیا ہے۔دنیا کے نزدیک میرے یہ خیالات ایک واہمہ سے بڑھ کر کوئی حقیقت نہیں رکھتے مگر اللہ تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ جو چیز ایک دفعہ پیدا ہو جائے وہ مرتی نہیں جب تک اپنے مقصد کو