جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 337
337 ٹیکنیکل میگزین کی اشاعت ۱۹۸۹ء میں صد سالہ جو بلی کے موقع پر سوویٹر سے آغاز کیا گیا پھر تقریباً سالانہ بنیادوں پر ٹیکنیکل میگزین کی اشاعت کا اہتمام ہورہا ہے۔بعض سالوں میں بوجوہ نانخے بھی ہوئے تا ہم ۲۰۱۰ ء تک میگزین شائع ہوکر منظر عام پر آچکے ہیں۔ان رسائل میں حضرت خلیفہ اسیح کے ایسوسی ایشن کے بارہ میں ارشادات اور ہدایات کے علاوہ مختلف النوع ٹیکنیکل مضامین، رپورٹس، اور اس سلسلہ میں نادر تصاویر کی اشاعت شامل ہے۔حضرت خلیفہ امسیح الرابع کی طرف سے مسلسل پذیرائی کے خطوط ایسوسی ایشن کی حوصلہ افزائی کرتے رہے ہیں۔آپ نے خواہش فرمائی تھی کہ میگزین کا یہ سلسلہ خوب سے خوب تر ہو کر جاری رہے خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔۰۳۔۲۰۰۲ء کا میگزین جو شائع ہوا وہ حضرت خلیفتہ المسیح الرابع کے نام سے منسوب کیا گیا تھا اور کئی نادر مضامین اور تصاویر پر مشتمل تھا۔اسی طرح صد سالہ خلافت احمد یہ جو بلی کے موقع پر ۲۰۰۸ء میں ایک خاص سووینئر شائع کیا گیا۔تحقیق اور بالیدگی اغراض و مقاصد میں سے ایک اہم مقصد تحقیق اور بالیدگی ہے۔اس سلسلہ میں ایک تو انجینئر ز ملک لال خان صاحب اور منیر احمد فرخ صاحب اور ایوب احمد ظہیر صاحب کے ذریع ٹیلی مواصلات کے شعبہ میں نہایت اہم کام ہوا۔جو رواں تراجم کے سنانے کے لئے ڈیزائن اور آلات کی ساخت و تنصیب تھی جو ہر جلسہ سالانہ پر غیر ملکی وفود کے لئے نظر آتا ہے آغا ز تو اس ٹیم کے ذریعہ ہی ہوا تھا۔لیکن ۲۰۰۰ء سے اس کے منتظم اعلیٰ منیر احمد فرخ صاحب (امیر جماعت ہائے احمد یہ ضلع اسلام آباد ) ہیں۔ایک شعبہ Slipforming کا ہے جس کے ماہر مکرم انجینئر منیر احمد خان صاحب ہیں جو پاکستان میں کئی بلند و بالا چمنیاں اور Silos بنا کر اپنا لوہا منوا چکے ہیں۔استے گھروں کے ماڈل پر انجینئر ز میجر بشیر احمد طارق اور میجر نواز منہاس صاحب حضرت خلیفہ المسح الرابع سے جلسہ سالانہ ۱۹۸۳ء پر انعام لے چکے ہیں۔ملک وسیم احمد صاحب۔صدر لاہور چیپٹر ) نے الیکٹریکل پینلز اور سونچ گیئر میں کام کیا ہے۔اسلام آباد میں ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کمپیوٹر سنٹر کا قیام ہے جس کی ابتدائی سرمایہ کاری کے لئے رقم حضرت خلیفۃ امسیح الرابع نے منظور فرمائی۔انجینئر صاحبزادہ مرزا غلام قادر صاحب شہید نے ربوہ میں کمپیوٹر کا