جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 300 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 300

300 (۳۱) ناظم خدمت خلق جلسہ کے موقعہ پر ٹریفک اور حفاظت سے متعلق جملہ امور کی انجام دہی اسی نظامت کے سپر د ہوتی ہے۔اس نظامت کے افسر اعلیٰ کو افسر خدمت خلق کہتے ہیں۔اختتامی کلمات جلسہ سالانہ کے موقعہ پر مہمانوں کی خدمت کی توفیق پانا ہر کارکن کیلئے در حقیقت بڑی خوش نصیبی ہے۔ہمیں اس کی دل سے قدر کرنی چاہئے۔اپنی زندگی میں جلسہ سالانہ کے دنوں میں یہ خدمت سید نا حضرت مسیح موعود نے خود انجام دی۔گویا جو کام حضور کیا کرتے تھے وہی خدمت بجالانے کی ہمیں توفیق مل رہی ہے۔حقیقت میں یه خدمت خوش نصیبی اسی صورت میں ہوگی جب یہ دیکھنے کے بغیر کہ کیا کام سپر د ہوا ہے اسے پورے خلوص، سنجیدگی ، انہاک اور بھر پور صلاحیت کے ساتھ سرانجام دیا جائے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔(الحشر : ۱۰) یعنی مومنوں کی پہچان یہ ہے کہ تہی دست و تنگ حال ہونے کے باوجود ہجرت کر کے آنے والوں کو اپنے وجودوں پر ترجیح دیتے ہیں۔اس سلسلہ میں حضرت مسیح موعود کے ارشادات ہماری راہنمائی کرتے ہیں۔ان میں سے تین کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ان ارشادات کا لب لباب یہ ہے کہ کسی مہمان کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔کارکن اس بات کا خیال رکھیں کہ ہر ایک سے کشادہ پیشانی سے پیش آئیں۔ہر ایک کو ٹھہرانے کا انتظام کریں۔ہر ایک کے لئے کھانے کا انتظام کریں۔کوئی بھوکا نہ رہے۔(۱) ۲۵ دسمبر ۱۹۰۳ء کو جب کہ جلسہ سالانہ کے لئے بیرونجات سے بہت سے مہمان قادیان آئے ہوئے تھے حضور نے مہتم لنگر خانہ حضرت میاں نجم الدین صاحب کو بلا کر فرمایا:۔”دیکھو بہت سے مہمان آئے ہوئے ہیں ان میں سے بعض کو تم شناخت کرتے ہو اور بعض کو نہیں۔اس لئے مناسب یہ ہے کہ سب کو واجب الا کرام جان کر تو اضع کرو۔سردی کا موسم ہے چائے پلاؤ اور تکلیف کسی کو نہ ہو۔تم پر میرا احسن ظن ہے کہ مہمانوں کو آرام دیتے ہو۔ان سب کی خدمت کرو۔اگر کسی کو گھر یا مکان میں سردی ہو تو لکڑی یا کوئلہ کا انتظام کرو۔( ملفوظات جلد سوم صفحه ۴۹۲ ) (۲) مہمان کی تواضع کے متعلق آپ نے فرمایا:۔ولنگر کے مہتم کو تاکید کر دی جاوے کہ ہر ایک شخص کی احتیاج کو مدنظر رکھے مگر چونکہ وہ اکیلا آدمی ہے اور کام کی کثرت ہے ممکن ہے کہ اسے خیال نہ رہتا ہو اس لئے کوئی دوسرا شخص یا د دلا دیا