جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 284 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 284

284 معلومات وسیع ہوں اور خدا تعالیٰ کے فضل و توفیق سے ان کی معرفت ترقی پذیر ہو۔“ ۲۔پھر اس ضمن میں یہ بھی فوائد ہیں کہ اس ملاقات سے تمام بھائیوں کا تعارف بڑھے گا اور جماعت کے تعلقات اخوت استحکام پذیر ہوں گے۔“۔جلسہ میں یہ بھی ضروریات میں سے ہے کہ یورپ اور امریکہ کی دینی ہمدردی کے لئے تدابیر حسنہ پیش کی جائیں۔کیونکہ اب یہ ثابت شدہ امر ہے کہ یورپ اور امریکہ کے سعید لوگ اسلام قبول کرنے کے لئے تیار ہو رہے ہیں اور اسلام کے تفرقہ مذاہب سے بہت لرزاں اور ہراساں ہیں۔۴۔سولازم ہے کہ اس جلسہ پر جو کئی بابرکت مصالح پر مشتمل ہے ہر ایک ایسے صاحب ضرور تشریف لاویں جو زادراہ کی استطاعت رکھتے ہوں اور اللہ اور اس کے رسول کی راہ میں ادنی ادنیٰ حرجوں کی پرواہ نہ کریں۔خدا تعالیٰ مخلصوں کو ہر یک قدم پر ثواب دیتا ہے اور اس کی راہ میں کوئی محنت اور صعوبت ضائع نہیں ہوتی۔اس جلسہ کو معمولی انسانی جلسوں کی طرح خیال نہ کرو۔یہ وہ امر ہے جس کی خالص تائید حق اور اعلائے کلمہ اسلام پر بنیاد ہے۔اس سلسلہ کی بنیادی اینٹ خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے رکھی ہے اور اس کے لئے قومیں طیار کی ہیں جو عنقریب اس میں آملیں گی کیونکہ یہ اس قادر کا فعل ہے جس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں۔عنقریب وہ وقت آتا ہے بلکہ نزدیک ہے کہ اس مذہب میں نہ نیچریت کا نشان رہے گا اور نہ نیچر کے تفریط پسند اور اوہام پرست مخالفوں کا ، نہ خوارق کا انکار کرنے والے باقی رہیں گے اور نہ ان میں بیہودہ اور بے اصل اور مخالف قرآن روایتوں کو ملانے والے اور خدا تعالیٰ اس امت وسط کے لئے بین بین کی راہ زمین پر قائم کر دے گا۔وہی راہ جس کو قرآن لایا تھا۔وہی راہ جو رسول کریم ﷺ نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنھم کو سکھلائی تھی۔وہی ہدایت جو ابتداء سے صدیق اور شہید اور صلحاء پاتے رہے۔یہی ہوگا۔ضرور یہی ہوگا۔جس کے کان سننے کے ہوں سنے۔مبارک وہ لوگ جن پر سیدھی راہ کھولی جائے“۔ے۔اور اس اشتہار کے آخر پر تحریر فرمایا:۔’بالآخر میں دعا پر ختم کرتا ہوں کہ ہر ایک صاحب جو اس لہی جلسہ کے لئے سفر اختیار کرے۔خدا تعالیٰ ان کے ساتھ ہو اور ان کو اجر عظیم بخشے اور ان پر رحم کرے اور ان کی مشکلات اور اضطراب کے حالات ان پر آسان کر دیوے اور ان کے ہم و غم دور فرمادے۔اور ان کو ہر یک تکلیف سے مخلصی عنایت کرے اور ان کی مرادات کی راہیں ان پر کھول دیوے اور روز آخرت میں اپنے ان بندوں کے ساتھ ان کو اٹھاوے جن پر اس کا فضل درحم ہے اور تا اختتام سفر ان کے بعد ان کا خلیفہ ہو۔اے خدا اے ذوالمجد والعطاء اور رحیم اور مشکل کشا، یہ تمام دعائیں قبول کر اور ہمیں ہمارے مخالفوں پر روشن نشانوں کے ساتھ غلبہ عطا فرما کہ ہر یک قوت اور طاقت تجھ ہی کو