جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 120
120 کرے گا۔وہ کلمتہ اللہ ہے کیونکہ خدا کی رحمت و غیوری نے اسے اپنے کلمہ تمجید سے بھیجا ہے۔وہ سخت ذہین و فہیم ہوگا اور دل کا حلیم اور علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا اور وہ تین کو چار کرنے والا ہو گا (اس کے معنے سمجھ میں نہیں آئے ) دوشنبہ ہے مبارک دوشنبه فرزند دلبند گرامی ارجمند مظهر الاول والآخر مظهر الحق و العلاء كَانَّ الله نزل من السماء جس کا نزول بہت مبارک اور جلال الہی کے ظہور کا موجب ہوگا۔نور آتا ہے نور جس کو خدا نے اپنی رضا مندی کے عطر سے ممسوح کیا ہم اس میں اپنی روح ڈالیں گے اور خدا کا سایہ اس کے سر پر ہوگا۔وہ جلد جلد بڑھے گا اور اسیروں کی رُستگاری کا موجب ہوگا اور زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی تب اپنے نفسی نقطہ آسمان کی طرف اٹھایا جائے گا۔وکان امرا مقضیا۔“ ( مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحه ۱۱-۱۲) پس اس پیشگوئی کے شائع کرنے کے بعد ۳ سال کے اندراندر مورخه ۱۲ جنوری ۱۸۸۹ء کووه موعود فرزند پیدا ہو گیا۔جوان تمام صفات کا حامل ثابت ہوا۔جو اس پیشگوئی میں بیان کی گئی تھی۔اس اعتبار سے یہ پیشگوئی اللہ تعالیٰ کی ہستی کا ثبوت بنی نیز آنحضرت ﷺ کی صداقت کا ثبوت بنی کیونکہ آپ نے آخری زمانہ میں ظاہر ہونے والے مسیح موعود و مہدی معہود کی علامات میں سے ایک علامت یہ بیان فرمائی تھی کہ يَتَزَوَّجُ وَيُولَدُلَهُ یعنی مسیح موعود شادی کرے گا اور اس کے ہاں اس شادی کے نتیجہ میں اولا دبھی ہوگی۔اس پیشگوئی میں نہ کسی عام شادی کا ذکر کیا گیا ہے اور نہ کسی عام اولاد کا ذکر کیا گیا ہے بلکہ اس میں ایک خاص شادی اور خاص اور مبشر اولاد کا ذکر کیا گیا ہے۔پس اس پہلو سے یہ پیشگوئی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سچائی کا بھی نشان اور ثبوت بنی کیونکہ آپ نے یہ پیشگوئی خدا تعالیٰ سے خبر پا کر شائع فرمائی تھی۔چنانچہ اس پیشگوئی کا پورا ہونا آپ کے من جانب اللہ ہونے اور مامور من اللہ ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔پس اس پس نظر کے تحت پیشگوئی مصلح موعودؓ کے شائع کرنے کا دن خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔یہی وجہ ہے کہ مورخہ ۲۰ فروری کے دن کو ہر سال خصوصی طور پر منایا جاتا ہے۔اور اس دن کا آغاز بھی باجماعت نماز تہجد سے ہوتا ہے۔اور اس روز تمام جماعت ہائے احمد یہ عالمگیر میں پیشگوئی مصلح موعود کی مناسبت سے جلسے، سیمینارز اور اجلاسات منعقد کئے جاتے ہیں۔جن میں پیشگوئی مصلح موعود کا پس منظر اور حضرت مصلح موعودؓ کی سیرت یا پیشگوئی میں بیان فرمودہ مختلف اوصاف پر تقاریر کی جاتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ یہ دن جماعت احمدیہ کی تاریخ میں یوم مصلح موعود کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔