جلسہ سالانہ

by Other Authors

Page 27 of 77

جلسہ سالانہ — Page 27

27 خلق اللہ ہے۔پھر اگر کوئی امر یا انتظام موجب اصلاح نہ ہو بلکہ موجب فساد ہو تو مخلوق میں سے میرے جیسا اس کا کوئی دشمن نہیں۔اور اخی مکرم حضرت مولوی نورالدین صاحب سلمہ تعالے بارہا مجھ سے یہ تذکرہ کر چکے ہیں کہ ہماری جماعت کے اکثر لوگوں نے اب تک کوئی خاص اہلیت اور تہذیب اور پاک دلی اور پر ہیز گاری اور لہی محبت با ہم پیدا نہیں کی۔سو میں دیکھتا ہوں کہ مولوی صاحب موصوف کا یہ مقولہ بالکل صحیح ہے۔مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض حضرات جماعت میں داخل ہو کر اور اس عاجز سے بیعت کر کے اور عہد تو بہ نصوح کر کے پھر بھی ویسے کج دل ہیں کہ اپنی جماعت کے غریبوں کو بھیٹریوں کی طرح دیکھتے ہیں۔وہ مارے تکبر کے سیدھے منہ سے السلام علیک نہیں کر سکتے۔چہ جائیکہ خوش خلقی اور ہمدردی سے پیش آویں اور انہیں سفلہ اور خود غرض اس قدر دیکھتا ہوں کہ وہ ادنے ادنے خود غرضی کی بناء پر لڑتے اور ایک دوسرے سے دست بدامن ہوتے ہیں۔اور ناکارہ باتوں کی وجہ سے ایک دوسرے پر حملہ ہوتا ہے۔بلکہ بسا اوقات گالیوں تک نوبت پہنچتی ہے اور دلوں میں کینے پیدا کر لیتے ہیں اور کھانے پینے کی قسموں پر نفسانی بحثیں ہوتی ہیں۔اور اگر چہ نجیب اور سعید بھی ہماری جماعت میں بہت بلکہ یقیناً دوسو سے زیادہ ہی ہیں جن پر خدا تعالیٰ کا فضل ہے جو نصیحتوں کو سن کر روتے اور عاقبت کو مقدم رکھتے ہیں اور ان کے دلوں پر نصیحتوں کا عجیب اثر ہوتا ہے۔لیکن میں اس وقت کج دل لوگوں کا ذکر کرتا ہوں۔اور حیران ہوتا ہوں کہ خدایا یہ کیا حال ہے۔یہ کونسی جماعت ہے جو میرے ساتھ ہے۔نفسانی لالچوں پر کیوں ان کے دل گرے جاتے ہیں اور کیوں ایک بھائی دوسرے بھائی کو ستاتا اور اس سے بلندی چاہتا ہے۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ انسان کا ایمان ہرگز درست نہیں ہو سکتا جب تک اپنے آرام پر اپنے