جلسہ سالانہ — Page 18
18 ہمیشہ فکر رکھنا چاہئے اور دعا کرنا چاہئے کہ خدائے تعالی یہ توفیق بخشے۔اور جب تک یہ توفیق حاصل نہ ہو۔کبھی کبھی ضرور ملنا چاہیئے۔کیونکہ سلسلہ بیعت میں داخل ہو کر پھر ملاقات کی پروا نہ رکھنا ایسی بیعت سراسر بے برکت اور صرف ایک رسم کے طور پر ہوگی۔اور چونکہ ہر یک کے لئے بباعث ضعف فطرت یا کمی مقدرت یا بعد مسافت یہ میتر نہیں آسکتا کہ وہ محبت میں آکر رہے یا چند دفعہ سال میں تکلیف اُٹھا کر ملاقات کے لئے آوے۔کیونکہ اکثر دلوں میں ابھی ایسا اشتعال شوق نہیں کہ ملاقات کے لئے بڑی بڑی تکالیف اور بڑے بڑے حرجوں کو اپنے پر روا رکھ سکیں لہذا قرین مصلحت معلوم ہوتا ہے کے سال میں تین روز ایسے جلسہ کے لئے مقرر کئے جائیں جس میں تمام مخلصین اگر خدا تعالیٰ چاہے بشرط صحت و فرصت و عدم موانع قو یہ تاریخ مقررہ پر حاضر ہو سکیں۔سو میرے خیال میں بہتر ہے کہ وہ تاریخ ۲۷ دسمبر سے ۲۹ دسمبر تک قرار پائے۔یعنی آج کے دن کے بعد جو میں دسمبر ۱۸۹ ہے۔آئیندہ اگر ہماری زندگی میں ۲۷ دسمبر کی تاریخ آجاوے تو حتی الوسع تمام دوستوں کو محض اللہ ربانی باتوں کے سنے کے لئے اور دُعا میں شریک ہونے کے لئے اُس تاریخ پر آجانا چاہیئے۔اور اس جلسہ میں ایسے حقائق اور معارف کے سُنانے کا شغل رہے گا۔جو ایمان اور یقین اور معرفت کو ترقی دینے کے لئے ضروری ہیں۔اور نیز اُن دوستوں کے لئے خاص دُعا ئیں اور خاص توجہ ہو گی۔اور حتی الوسع بدرگاہ ارحم الراحمین کوشش کی جائے گی کہ خُدائے تعالے اپنی طرف اُن کو کھینچے اور اپنے لئے قبول کرے اور پاک تبدیلی اُن میں بخشے۔اور ایک عارضی فائدہ ان جلسوں میں یہ بھی ہوگا کہ ہر ایک نئے سال جس قدر نئے بھائی اس جماعت میں داخل ہوں گے۔وہ تاریخ مقررہ پر حاضر ہو کر اپنے پہلے بھائیوں کے منہ دیکھ لیں گے۔اور