جدید علم کلام کے عالمی اثرات

by Other Authors

Page 67 of 156

جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 67

4- ہے جو ستمبر ۱۹۷۳ء میں ادارہ ادبیات اسلامیہ ملتان کے زیرا ہتمام شائع ہوئی۔مقام خاتم النبیین کے تعلق میں مولانا قاری محد طیب صاحب متجم دار العلوم دیوبند کی کتاب آفتاب نبوت اور خاتم النبیین سے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے نقطہ نظر کی بہترین عکاسی ہوتی ہے۔پروفیسرڈاکٹر غلام جیلانی صاحب برق ایم اے پی ایچ ڈی کی تالیف دو قرآن" قرآن مجید کے متعلق حضور کے اس بلیغ فقرہ کی بصیرت افروز تفصیل ہے کہ ( قرآن ) قانون فطرت کی ایک عکسی تصویر ہے " (براہین احمدیہ حصہ دوم صفر ۹۱-۹۲ مطبوع ۱۸۸۲) نذیر الحق صاحب میر تھی نے اپنی کتاب یا جوج ماجوج " میں اور جناب علی اکبر صاب نے اسرائیل قرآنی پیش گوئیوں کی روشنی میں دجال اور یا جوج ماجوج کے ظہور پذیر ہونے کے بارے میں جو نظریہ پیش کیا ہے وہ حضور ہی کے علم کلام - مستعار لیا گیا ہے۔مقدم الذکر کتاب فیروز سنز لاہور کی اور موخر الذکر مکتبہ " سے شاہکارہ لاہور کی مساعی سے منظر عام پر آئی ہے۔اسی طرح کشمیر کے رسیرچ سکالر محمد یسین صاحب ایم اے ایل ایل بی ایچ ڈی۔ڈمی نے ۱۹۷۲ء میں کتاب MYSTERIES OF KASHMEER د کشمیر کے سربستہ رانہ) شائع کی جس میں تاریخی حقائق کی روشنی میں ثابت کیا کہ حضرت مسیح ناصری علیہ السلام واقعہ ملیب کے بعد کشمیر میں ہجرت کر کے تشریف لے آئے تھے اور سرینگر محمد خانیار میں بلا شبہ آپ ہی کا مزار مبارک ہے نیز بتایا کہ اس انکشاف کا سہرا حضرت باقی سلسلہ احمدیہ ہی کے سر ہے چنانچہ فاضل مؤلف تحریر فرماتے ہیں :۔