جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 27
۲۷ اس ضمن میں کینیڈا کے مستشرق اور اوٹا وہ یونیورسٹی کے پروفیسر مسٹر انٹینو آرگلیٹری ( ANTONIO R۔GUALTIERI ) کی مثال دی جا سکتی ہے۔آپ دسمبر ۱۹۴۷ء میں احمدیوں کی بے مثال قربانیوں کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرنے کے لیئے پاکستان تشریف لائے اور احمدی جوانوں کے جذبہ ملائیت، دینی جوش اور ولولہ ایمانی کو دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئے اور واپس جا کر اپنے تاثرات و مشاہدات پر ایک کتاب لکھی جس کا نام ہے CON SCIENCE AND COERCION(انسانی ضمیر اور بعد و تشدد ) اس کتاب میں پروفیسر موصوف نے بہت سے حقائق سے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایا ہے کہ قربانی کے موجودہ دور میں جماعت احمدیہ کسی پہلو سے کی مہمان سے پیچھے نہیں ہٹی اور ان کے اندر نئے عزم پیدا ہوتے پہلے بار ہے ہیں۔میں نے جیلوں میں جا کر بوڑھوں کے ساتھ بھی بات چیت کی اور میں یہ دیکھ کر حیران ہوتا تھا کہ ان کو لذت کس بات کی آرہی ہے۔وہ مجھے سمجھانے کی کوشش کرتے تھے کہ یہ خدا کی خاطر قربانی کا مزہ ہے۔(مفہوم) یہ قابل قدر کتاب کینیڈا کے نشریاتی ادارہ G VERNICA نے مانٹریالی سے گزشتہ سال ۱۹۸۹ء میں شائع کی ہے۔مولانا تاج محمد صاحب بھی ناظم اعلی تحفظ ختم نبوت کورٹ نے بجٹ پیٹ درجہ اول کوئٹہ کی عدالت میں ۲۱ دسمبر ۱۹۰۵ء کو بیان دیتے ہوئے یہ حیرت انگیز اعتراف کیا کہ :۔" " یہ درست ہے کہ حضور رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو آدمی نماز پڑھتا تھا ، اذان دیتا تھا یا کلمہ بڑھتا تھا اس کے ساتھ مشترک یہی سلوک کرتے تھے جو اب ہم احمدیوں سے کر رہے ہیں۔مصدق نقل بیان