جدید علم کلام کے عالمی اثرات

by Other Authors

Page 130 of 156

جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 130

۱۳۰ کے غربی علاقے میں پھیلی ہوئی اُن متعد دلبستیوں میں آباد ہیں جن کا مرکز ہرات ہے۔میں نے اُن کی نسبت کئی بار سنا تھا لیکن میں سمجھتا تھا کہ شاید یہ مشرقی ایران کے وہ لوگ ہیں جنہیں یورپی مشنریوں نے عیسائی بنا لیا تھا یا وہ اس زمانے کی یادگار ہیں جب ساتویں آٹھویں صدی عیسوی میں ایران پر عربوں کے تسلط سے قبل ہرات نسطوری سلطنت کا حصہ ہوا کرتا تھا۔لیکن اُن کے اپنے بیان کے مطابق بلکہ میں خود بھی ہی سمجھتا ہوں کہ یہ لوگ کسی اور زیادہ قدیم قوم سے تعلق رکھتے ہیں۔مجھے ان کا علم میر آف گزر گا کے ایک کارندے کے ذریعہ ہوا۔میر حضرت) محمد کی اولاد میں سے ہے اور یہ لوگ اسی کی زیر حفاظت رہتے ہیں۔گزرگا ایک خانقاہ ہے جہاں ایک مقامی صوفی بزرگ (حضرت عبداللہ انصار کا نہایت شاندار مزار واقع ہے اور جو ہندوستان کے کئی بادشا ہوں اور معززین کی زیارت گاہ رہا ہے۔ان عیسائیوں کی تعداد ضرور ایک ہزار تک ہوگی۔اُن کے سردار کا نام بتاتی ہے جو عیسی بن مریم ناصری کشمیری تک اپنے رہبروں کی گزشتہ 40 پشتوں تک کے نام گنوا سکتا ہے۔ان لوگوں کے نزدیک (حضرت) یسوع مسیح صلیب سے زندہ اتر آئے تھے اور اپنے حواریوں کی مدد سے پوشیدہ طور پر سند تون کی طرف ہجرت کر گئے۔اُن دنوں آپ جو ان ہی تھے۔آپ کشمیر نہیں ہیں جوان آباد ہو گئے جہاں انہیں یوز آصف کے نام سے ایک قدیم بزرگ شخصیت کے طور پر نہایت عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔اُن لوگوں کا دعوی ہے کہ انہیں (حضرت) یسوع مسیح کی مفروضہ زندگی کے اسی دور میں ان کا پیغام پہنچا تھا۔