اتمام الحجّة — Page 73
اتمام الحجة ۷۳ اردو تر جمه ويُبلغونها ويشيعونها، اور ان کلمات کی تبلیغ واشاعت کرتے ہیں پس وہ فتكون سبب مرضاة الله كهف كلمات خدا تعالیٰ کی خوشنودی کے سبب مامورین کی المأمورين۔ثم تلك الكلمات پناہ ہوتے ہیں اور پھر بعینہ یہی کلمات بغیر کسی تغییر و بعينها بغیر تغییر و تبدیل تبدل دوسرے شخص کے منہ سے نکلتے ہیں تو ان تخرج من فم آخر ، فيصير كلمات کا قائل ان لوگوں میں سے ہوجاتا ہے قائلها من الذين تركوا الأدب جنہوں نے حدادب کو چھوڑ دیا ہوتا ہے اور بے باکی واجترء وا وصاروا من اختیار کرتا اور فاسقوں میں سے ہو جاتا ہے۔پس الفاسقين۔فتأدَّبُ مع أهل الله اہل اللہ کے ساتھ ادب سے پیش آاور اُن کے بعض ولا تعجل عليهم ببعض کلمات کی وجہ سے اُن کے خلاف جلدی مت کر۔كلماتهم۔وإن لهم نياتٍ لا كيونكه أن (اہل اللہ ) کی نیتیں ایسی ہیں جن سے تو تعرفها، وإنهم لا ينطقون نا آشنا ہے وہ صرف اور صرف اپنے رب کے إلا بإشارة ربّهم، فلا تهلك اشارے سے گفتگو کرتے ہیں۔پس اپنے آپ کو نفسك كالمجترئین بے باک لوگوں کی طرح ہلاک نہ کر۔ان کی وہ لهم شأن لا يفهمه إنسان، عظمت شان ہوتی ہے جسے عام انسان سمجھ نہیں فكيف مثلك فـتـان إلا سکتا۔پھر بھلا تیرے جیسا فتنہ باز کیا سمجھے گا؟ من سلك مسلكهم، وذاق انہیں تو وہی سمجھ سکتا ہے جو ان کے مسلک پر چلا ہو مذاقهم، ودخل في سككھم اور اُس نے وہی مزا چکھا ہو جو انہوں نے چکھا ہوا فلا تنظر إلى وجوه مشایخ ہے۔اور اُن کے کوچوں میں داخل ہو چکا ہو۔پس الإسلام وكبراء الزمان تو مشائخ اسلام اور زمانے کے سرکردہ لوگوں کے فإنهم وجوه خالية من نور چہروں کو مت دیکھ۔کیونکہ وہ چہرے خدائے رحمان الرحمن، ومن زى العاشقين کے نور اور عاشقوں کے شعار سے خالی ہیں۔