اتمام الحجّة — Page 57
اتمام الحجة ۵۷ اردو تر جمه اپنی طرف سے اس کے معنے گھڑنا اگر فسق اور الحاد کا طریق نہیں ہے تو اور کیا ہے۔انصاف یہ تھا کہ اگر اس قطعی اور یقینی ثبوت کو ماننا نہیں تھا تو اس کو توڑ کر دکھلاتے۔مگر ہمارے مخالفوں نے ایسا نہیں کیا اور تاویلات رکیکہ کر کے اور سچائی کے راہوں کو بکلی چھوڑ کر ہم پر ثابت کر دیا کہ ان کو سچائی کی کچھ بھی پروانہیں ہے۔انہوں نے انکار حیات عیسی کو کلمہ کفر تو ٹھہرایا مگر آنکھ کھول کر نہ دیکھا کہ قرآن اور نبی آخر الزمان دونوں متفق اللفظ واللسان حضرت عیسی کی وفات کے قائل ہیں۔امام مالک جیسے جلیل الشان امام قائل وفات ہو گئے۔اور امام بخاری جیسے مقبول الزمان امام حدیث نے محض وفات کے ثابت کرنے کے لئے دو متفرق مقامات کی آیتوں کو ایک جگہ جمع کیا۔ابن قیم جیسے محدث نے مدارج السالکین میں وفات کا اقرار کر دیا۔ایسا ہی علامہ شیخ علی بن احمد نے اپنی کتاب سراج منیر میں ان کی وفات کی تصریح کی۔معتزلہ کے بڑے بڑے علماء وفات کے قائل گزر گئے۔پر ابھی تک ہمارے مخالفوں کی نظر میں حضرت عیسی کی حیات پر اجماع ہی رہا۔یہ ۲۱ خوب اجماع ہے۔خدا تعالیٰ ان لوگوں کے حال پر رحم کرے یہ تو حد سے گزر گئے۔جو باتیں اللہ اور رسول کے قول سے ثابت ہوتی ہیں انہیں کو کلمات کفر قرار دیا۔انا لله وانا اليه راجعون۔اب ہم اس تقریر کو زیادہ طول دینا نہیں چاہتے اور نہ ہم جتلانا چاہتے ہیں کہ مولوی رسل بابا صاحب کا رسالہ حیات اسیح کس قدر بے بنیاد اور واہیات باتوں سے پُر ہے۔لیکن نہایت ضروری امر جس کے لئے ہم نے یہ رسالہ لکھا ہے یہ ہے کہ مولوی صاحب موصوف نے اپنے رسالہ مذکورہ میں محض عوام کا دل خوش کرنے کے لئے یہ چند لفظ بھی منہ سے نکال دیئے ہیں کہ اگر ہمارے دلائل حیات مسیح تو ڑ کر دکھلا دیں تو ہم ہزار روپیہ دیں گے۔اگر چہ دلائل کا حال تو معلوم ہے کہ مولوی صاحب موصوف نے ناحق چند ورق سیاہ کر کے ایک قدیم پردہ اپنا فاش کیا اور ایسی بے ہودہ باتیں لکھیں کہ بجز دو نام کے ہم تیسرا نام ان کا رکھ ہی نہیں سکتے۔یعنی یا تو وہ صرف دعاوی ہیں جن کو دلیل کہنا بیجا اور حمق ہے۔اور یا یہودیوں کی طرح قرآن شریف کی