اسلامی لٹریچر میں خوفناک تحریف — Page 45
45 عدیم النظیر معارف قرآن اور سلاطین عالم کو دعوت اسلام اس کے بعد فرمایا کہ مولوی حکیم نور الدین صاحب جو آپ کے صادق الا رادت اور راسخ العقیدہ مریدوں میں سے ہیں ایک دفعہ میرے پاس بہاولپور آئے تھے انہوں نے فرمایا کہ میں مرزا صاحب کا جو مرید ہوا ہوں ان کی اور کرامات کو دیکھ کر نہیں ہوا بلکہ یہ تین امر د یکھ کر ہوا ہوں۔ہے۔اول یہ کہ حضرت مرزا صاحب نے ظاہری علم صرف و نحو کا شرح ملا تک پڑھا ہے اور وہ بھی انگریزوں کی ملازمت کے وقت دوسرے علماء کی مانند بھلا دیا تھا اور اب ایسے تبحر اور یگانہ روزگار عالم ہیں کے قصائد عربی اور فارسی اور اردو کمال فصاحت اور بلاغت کے ساتھ چالیس چالیس شعر یک دفعہ بلا تامل لکھے چلے جاتے ہیں اور قرآن شریف کے معانی کے رموز جو کچھ ہم لوگوں کو معلوم ہیں وہ عموماً صوفیاء کی کتابوں ہی سے ہیں۔خصوصاً فصوص الحکم اور فتوحات مکیہ شیخ اکبر حضرت محی الدین ابن عربی سے۔مگر قرآن شریف کے وہ اسرار اور معانی جو ہم نے حضرت مرزا صاحب سے سنے ہیں نہ پہلے کسی کتاب میں دیکھے ہیں اور نہ سوائے حضرت مرزا صاحب کے کسی اور شخص سے سنے ہیں۔دوم یہ کہ ہم نے حضرت مرزا صاحب کو رات دن اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف و مشغول دیکھا ہے۔حمل سوم یہ کہ دین اسلام کی اشاعت میں ایسے کمر بستہ ہیں کہ بے خوف و ہر اس تمام ملکوں اور شہروں کے ملوک وسلاطین کو دعوت اسلام دی ہے۔جیسا کہ ملکہ زمان بادشاہ لنڈن کو صلیب کی شوکت اور کفارہ اور تثلیث کے عقیدہ کو توڑنے کی غرض