اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 159
وَمَثَلُ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ وَ تَثْبِيتًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةِ بِرَبْوَةِ أَصَابَهَا وَابِل فَاتَتْ أُكُلَهَا ضِعْفَيْنَ ۚ فَإِنْ ده و لَّمْ يُصِبْهَا وَابل " فَطَلّ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ (سورۃ البقرۃ آیت ۲۶۶) ترجمہ۔اور ان لوگوں کی مثال جو اپنے اموال اللہ کی رضا چاہتے ہوئے اور اپنے نفوس میں سے بعض کو ثبات دینے کے لئے خرچ کرتے ہیں، ایسے باغ کی سی ہے جو اونچی جگہ پر واقع ہو اور اسے تیز بارش پہنچے تو وہ بڑھ چڑھ کر اپنا پھل لائے اور اگر اسے تیز بارش نہ پہنچے تو شبنم ہی بہت ہو۔اور اللہ اس پر جو تم کرتے ہو گہری نظر رکھنے والا ہے۔۔زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ b الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْأَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ذَلِكَ مَتَاعُ الحيوةِ الدُّنْيَا = وَاللَّهُ عِنْدَهُ حُسْنُ الْمَابِ ج (سورۃ آل عمران آیت ۱۵) ترجمہ۔لوگوں کے لئے طبعا پسند کی جانے والی چیزوں کی یعنی عورتوں کی اور اولاد کی اور ڈھیروں ڈھیر سونے چاندی کی اور امتیازی نشان کے ساتھ دانے ہوئے گھوڑوں کی اور مویشیوں اور کھیتیوں کی محبت خوبصورت کر کے دکھائی گئی ہے۔یہ دنیوی زندگی کا عارضی سامان ہے۔اہے وہ اللہ وہ جس کے پاس بہت بہتر لوٹنے کی جگہ ہے۔159