احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 262
22 مسئلہ پر شروط عمر یہ ایک راہنما دستاویز ہے۔اور انہوں نے تمام اسلامی تاریخ میں اس کی اہمیت پر زور دیا۔ان روایات کا ذکر صرف اس عدالتی فیصلہ میں نہیں کیا گیا بلکہ جب بھی جماعت احمد یہ کے مخالفین کو اپنے دلائل کے مُردے میں جان ڈالنے کی ضرورت پیش آئے تو عموماً ان روایات کا حوالہ دیتے ہیں۔چنانچہ جب 1984ء میں چند احمد یوں نے شرعی عدالت میں جنرل ضیاء صاحب کی طرف سے جماعت احمدیہ کے خلاف جاری ہونے والے آرڈیننس کو چیلنج کیا اور کئی روز پر محیط بحث میں مکرم مجیب الرحمن صاحب (ایڈووکیٹ ) نے شرعی عدالت میں اس آرڈیننس کا غیر اسلامی ہونا ثابت کیا تو 23 جولائی 1984 ءکو جماعت احمد یہ کی مخالفت میں پیش ہونے والے قاضی مجیب صاحب نے اپنی ڈولتی ہوئی کشتی کو سنبھالنے کے لئے اسی معاہدے کا ذکر کیا تھا۔چونکہ اس عدالتی فیصلہ میں ”شروط عمریہ کے بارے میں ان عدالتی ماہرین کی آراء کو بہت نمایاں کر کے اور اہمیت دے کر درج کیا گیا ہے اور اس کو بنیاد بنا کر کچھ نتائج اخذ کئے گئے ہیں، اس لئے مناسب ہوگا کہ ان ماہرین کے نزدیک جو بھی ”شروط عمریہ“ کی شرائط تھیں ان کے بارے میں مندرجہ ذیل امور کا تجزیہ پیش کیا جائے : 1۔اس دستاویز کے بنیادی نکات کیا ہیں اور اگر ان کو بنیاد بنا کر قانون سازی کی گئی تو اس کے کیا نتائج نکلیں گے؟ 2۔کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اس دستاویز میں بیان کردہ قواعد کی تائید کرتی ہے؟ 3۔کیا جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اُس وقت غیر مسلموں سے مختلف معاہدات کئے 262