احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 136 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 136

منظور کی گئی تھی اور اس میں یہ واویلا بھی کیا گیا تھا کہ احمدی جہاد کے قائل نہیں ہیں اور مغربی طاقتوں کے اشاروں پر مسلمانوں کے خلاف کام کر رہے ہیں۔اُس وقت مغربی طاقتیں اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے خود ایک بین الاقوامی جہاد کی حوصلہ افزائی کر رہی تھیں اور مالی طور پر بھی نواز رہی تھیں اور پاکستان اور سعودی عرب دونوں مکمل طور پر ان کا ساتھ دے رہے تھے اور یہ سب کچھ جماعت احمدیہ کے اشد مخالفین جنرل ضیاء الحق صاحب اور سعودی عرب کے شاہی خاندان مل کر کر رہے تھے اور یہ سب کچھ مغربی طاقتوں خاص طور پر امریکہ کی حکومت کے باہمی تعاون اور مشترکہ منصوبہ بندی سے ہو رہا تھا۔چنانچہ اُس وقت کے امریکہ کے صدر کارٹر کے مشیر برائے نیشنل سیکیورٹی Zbigniew Brzezinski اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ انہوں نے پاکستان آکر جنرل ضیاء صاحب سے ملاقات کی اور افغانستان میں سوویت یونین کی مخالفت میں منصوبہ پر مذاکرات کئے۔جنرل ضیاء الحق صاحب نے ہی یہ مشورہ دیا کہ فی الحال بہتر یہ ہوگا کہ پاکستان بظاہر امریکہ سے ذرا فاصلہ رکھے اور دنیا کو یہی نظر آئے کہ مسلمان ممالک اس معاملہ میں پاکستان کی مدد کر رہے ہیں۔چنانچہ اس مشورہ کے بعد Zbigniew Brzezinski سعودی عرب گئے اور شاہ خالد کو اس منصوبے پر آمادہ کیا اور خود برززنسکی صاحب لکھتے ہیں کہ اس وقت کی سعودی حکومت امریکہ کی بہت زیادہ حامی تھی اور اس وقت سعودی عرب کے دفاع کو بہتر بنانے کا منصوبہ مکمل طور پر امریکہ کی حکومت کے اراکین ہی بنارہے تھے۔(Power and Principle, by Zbigniew Brzezinski, published by Weidenfeld and Nicolson 1983p 449,454) ایک اور پہلو کے ذکر کے بغیر یہ بات ادھوری رہ جائے گی۔اُس وقت ”جہاد“ کی اہمیت اتنی تھی کہ خود امریکی صدر کے قومی سلامتی کے مشیر برزنسکی (Zbigneiw Brzezinski) 136