احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 130
تنظیم کے لٹریچر میں کچھ بھی لکھا ہو، یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ یہ تنظیم سعودی عرب کی حکومت کے عطایا پر کام کر رہی ہے اور یہ تنظیم کئی ملین ڈالر سعودی حکومت سے لے کر کام کرتی ہے اور اس کی پالیسی وہی ہوتی ہے جو کہ سعودی عرب کی حکومت کی ہوتی ہے۔اس کا ہیڈ کوارٹر بھی سعودی عرب میں ہے اور رابطہ عالم اسلامی نے آج تک کوئی ایسی پالیسی نہیں اپنا ئی جو کہ سعودی عرب کی حکومت کی پالیسی نہ ہو۔[http//:www۔pewforum۔org/2010/09/15/muslim-networks-and- movements-in-western-europe-muslim-world-league-and-world- assembly-of-muslim-youth/accessed on 2۔9۔2018] اور ایک طویل عرصہ سے یہ تنظیم جماعت احمد یہ کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ تفرقہ کا جو سفر جماعت احمدیہ سے شروع کیا جاتا ہے وہ کبھی بھی جماعت احمدیہ کے خلاف محدود نہیں رہتا بلکہ مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کا کام ایک منصوبے کے تحت آگے بڑھایا جاتا ہے۔تو قابل غور یہ پہلو ہے کہ یہ تنظیم رابطہ عالم اسلامی کیا صرف احمدیوں کے خلاف نفرت انگیزی میں ملوث رہی ہے یا اس تنظیم نے دوسرے فرقوں کے خلاف بھی فتنہ پروری کی ہے۔اہل تشیع کے خلاف رابطہ عالم اسلامی کی سرگرمیاں ذیل میں جو تفاصیل بیان کی جائیں گی ان کے ثبوت ایسی معتبر تحریروں سے دیئے جائیں گے جن کا جماعت احمدیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔حقیقت یہ ہے کہ یہی تنظیم شیعہ فرقہ کے خلاف بھی نفرت انگیزی کی مہم میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہے۔اس کے لئے رابطہ عالم اسلامی نے بھارت کے عالم منظور نعمانی صاحب کو تیار کیا کہ وہ شیعہ احباب اور ان کے قائد مینی صاحب کے خلاف فتاویٰ کفر تیار کر کے شائع کریں۔منظور نعمانی صاحب رابطہ 130