اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page iii
بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ پیش لفظ سید نا حضرت مرزا بشیر الدین محمد احمد مصلح الموعود علینہ اسی الائی نے ۲۶ فروری ۱۹۱۹ء کو مارٹن ہسٹار یکل سوسائٹی اسلامیہ کالج لاہور کے ایک اجلاس میں تاریخ اسلام کے اُس زمانہ کے بارے میں خطاب فرمایا جس میں مسلمانوں میں اختلافات کا آغاز ہوا اور جو مسلمانوں کے لئے ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔یعنی اسلام میں جو تفرقہ کی بنیاد رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے پندرہ سال بعد پڑی اس کی وجوہات اور اس کی حقیقت پر۔حضرت مصلح موعودؓ نے اپنے اس لیکچر میں اسلامی تاریخ کے اس پیچیدہ حصہ کو بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ مدلل تاریخی حوالہ جات سے حل کرتے ہوئے حاضرین جلسہ کے سامنے اس فتنہ کے وجوہات کو عمدہ طریق پر واضح کیا ہے۔حضرت مصلح موعودؓ نے اس تقریر کی تمہید میں یہ بیان فرمایا ہے کہ آباء واجداد کے حالات کی واقفیت بہت سے اعلیٰ مقاصد کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔۔۔۔۔۔اور ان کو معلوم ہوگا کہ ہم کیسے آباء کی اولا د ہیں اور ان کی ذریت اور قائمقام ہونے کی حیثیت سے ہم پر کیا فرائض عائد ہیں۔یا درکھنا چاہئے کہ اسلام کی ترقی کا انحصار اور اس کے غلبہ کا دارو مدار ، اللہ تعالیٰ کی قدرت ثانیہ خلافت کا بابرکت روحانی نظام ہے۔اور خلافت کے قیام کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے فرمایا ہے جو ایمان اور اعمال صالحہ میں اعلیٰ نمونہ پیش کرتے ہیں۔