اسلام میں اختلافات کا آغاز

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 8 of 132

اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 8

اختیار کرنے کے بعد جن خاص خاص لوگوں کو تبلیغ اسلام کے لئے منتخب کیا ان میں ایک حضرت عثمان بھی تھے۔اور آپ پر حضرت ابو بکر کا گمان غلط نہیں گیا بلکہ تھوڑے دنوں کی تبلیغ سے ہی آپ نے اسلام قبول کر لیا۔اور اس طرح السَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ میں یعنی اسلام میں داخل ہونے والے اس پیشرو گردہ میں شامل ہوئے جن کی قرآن کریم نہایت قابل رشک الفاظ میں تعریف فرماتا ہے۔عرب میں انہیں جس قدر عزت اور تو قیر حاصل تھی اس کا کسی قدر پتہ اس واقعہ سے لگ سکتا ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک رؤیا کی بناء پر مکہ تشریف لائے اور اہل مکہ نے بغض و کینہ سے اندھے ہو کر آپ کو عمرہ کرنے کی اجازت نہ دی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تجویز فرمایا کہ کسی خاص معتبر شخص کو اہل مکہ کے پاس اس امر پر گفتگو کرنے کے لئے بھیجا جاوے اور حضرت عمر کو اس کے لئے انتخاب کیا۔حضرت عمرؓ نے جواب دیا کہ یا رسول اللہ میں تو جانے کو تیار ہوں مگر مکہ میں اگر کوئی شخص ان سے گفتگو کر سکتا ہے تو وہ حضرت عثمان ہے کیونکہ وہ ان لوگوں کی نظر میں خاص عزت رکھتا ہے۔پس اگر کوئی دوسرا شخص گیا تو اس پر کامیابی کی اتنی امید نہیں ہو سکتی جتنی کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر ہے۔اور آپ کی اس بات کو حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی درست تصور کیا اور انہیں کو اس کام کے لئے بھیجا۔اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کفار میں بھی خاص عزت کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔حضرت عثمان کا مرتبہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کا بہت احترام فرماتے تھے ایک دفعہ آپ لیٹے ہوئے تھے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور آپ اسی طرح لیٹے رہے۔پھر 8