اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 50
50 اور تمام ادیان باطلہ پر اسلام کو غالب کرے تو اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث کیا۔جب آپ نے ان اسلام کے اشد ترین دشمنوں کے حملوں کا جواب دیا تو یہ سب آپ کے مخالف ہو گئے لیکن آپ نے مخالفت کی کچھ بھی پرواہ نہ کی اور ان مخالفین کے حملوں کا منہ توڑ جواب دیتے رہے۔مخالفین آپ کے جوابوں کی تاب نہ لا کر حکومت کو آپ کی شکایات کرتے اور الٹا یہ الزام دھرتے کہ نعوذ باللہ آپ ان کے انبیاء کی نسبت سخت الفاظ استعمال کرتے ہیں اسی بنا پر مخالفین نے آپ کے خلاف عدالت میں نالش بھی کی اور قتل تک کے مقدمات بھی کئے۔اسلام کی تعلیم اس بات سے منع کرتی ہے کہ گالی کا جواب گالی سے دیا جائے لیکن دوسرے اس سے باز نہ آتے تھے اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حکومت وقت کو اس طرف توجہ دلائی کہ اگر مخالفین اسلام کی طرف سے یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہا اور اس کے سد باب کے لئے کوئی قانون نہ بنایا گیا تو ملک بدامنی کا شکار ہو جائے گا۔اور آپ نے مخالفین کی طرف سے آنحضرت علیم کے بارے میں کی جانے والی بے ادبی اور توہین آمیز الفاظ اور جملے بھی حکومت وقت کے علم میں لانے کے لئے نمونہ کے طور پر پیش کئے تا اسے دیکھتے ہوئے ہی کوئی قانون وضع کیا جاسکے۔اس سلسلہ میں آپ نے لکھا۔نہایت ضروری عرضداشت قابل توجہ گورنمنٹ چونکہ ہماری گورنمنٹ برطانیہ اپنی رعایا کو ایک ہی آنکھ سے دیکھتی ہے اور اس کی شفقت اور رحمت ہر ایک قوم کے شامل حال ہے لہذا ہمارا حق ہے کہ ہم ہر ایک درد اور دکھ اس کے سامنے بیان کریں اور اپنی تکالیف کی چارہ جوئی اس سے ڈھونڈیں۔سوان دنوں میں بہت تکلیف جو ہمیں پیش آئی وہ یہ ہے کہ پادری صاحبان یہ چاہتے ہیں کہ وہ ہر ایک طرح سے ہمارے نبی صلم کی بے ادبی کریں گالیاں نکالیں بیجا تہمتیں لگائیں اور ہر ایک طور سے توہین