اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 325 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 325

325 دور حاضر اور اسلام پر حملے آنحضرت صلیم نے پیشگوئی کے رنگ میں یہ بات بیان فرمائی تھی کہ میری صدی سب سے بہترین صدی ہے اور کچھ کم درجہ کی اس کے ساتھ والی اور پھر اس کے کم درجہ کی اس کے ساتھ والی۔اس طرح آپ میلیم نے تین صدیوں کو خیر القرون کا درجہ دیا ہے۔اور یہ ایک حقیقی بات ہے کہ زمانہ جیسے جیسے بنی کے زمانہ سے دور ہوتا جاتا ہے اس میں اسی قدر خامیاں اور کمزوریاں واقع ہوتی جاتی ہیں یہی اسلام کے ساتھ ہوا۔پہلے پہل لکھنے پڑھنے کا رواج بھی کم تھا جیسے جیسے اس میں زیادتی ہوئی اور اس آخری زمانہ میں مذاہب کی آپسی محاذ آرائی شروع ہوئی تو ساتھ ہی ایک دوسرے کے مذاہب پر ان کے ماننے والوں نے حملے تیز کر دئے۔اسلام کی آمد کے ساتھ ہی عیسائیوں کو ہر ملک میں ناکامیوں کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔عیسوی مذہب نے جب دنیا میں دوبارہ ترقی کی اور مسلمان ہر میدان میں کمزور ہو گئے اس وقت عیسائی مستشرقین نے اسلام میں کمزوریاں تلاش کرنی شروع کیں اور مؤرخین اسلام کی ان روایات کو انہوں نے لیا جن سے کسی نہ کسی طرح اسلام پر زد پڑتی تھی۔اسی طرح قرآن کریم اور آنحضرت علایی کی سیرت پر بھی اعتراضات کے انبار لگا دئے اور مسلمانوں میں اتنی بھی سکت نہ رہی کہ یہ ان کے اعتراضات کا جواب دے پاتے۔جب عیسائیت ہندوستان میں داخل ہوئی تو ان کی دیکھا دیکھی ہندؤوں اور خاص طور پر آریوں نے بھی اسلام پر شدید حملے کرنے شروع کر دئے۔جس طرح عیسائی پادری رسول کریم بیلی یا لیلی کے بارے میں ناپاک زبان استعمال کرتے تھے آریوں نے بھی کرنی شروع کر دی لیکن مسلمانوں میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہ تھا کہ وہ ان حملوں کا جواب دے سکتا۔خود مسلمانوں کی حالت یہ تھی کہ بڑے بڑے علماء عیسائیت کی آغوش میں چلے گئے مساجد کے شاہی امام تک پادریوں سے فکست کھا کر خود پادری بن گئے۔