اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 311 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 311

311 خلاصه کلام تو بین رسالت کی سلسلہ میں اب تک جو بحث گزری ہے وہ چار موضوعات پر تھی۔امام ابن تیمیہ نے بھی انہیں چار موضوعات کو لیکر اپنی کتاب میں بحث کی ہے۔بالکل اختصار سے ان چاروں موضوعات کو پیش کر کے لکھے گئے مضمون کا ایک جائزہ خلاصہ کے رنگ میں پیش کرتا ہوں تا کہ ساری بات آسانی سے سمجھ میں آجائے۔کافر! پہلا مسئلہ یہ تھا کہ کیابنی کریم علیم کی توہین کرنے والے کو قتل کیا جائے گا؟ وہ مسلم ہو یا بعض علماء اس بات کے حامی رہے ہیں کہ ہاں ایسے شخص کی سزا قتل ہے۔جیسا کہ اس پر بحث گزری ہے۔لیکن اس کے حامی اشخاص میں سے ایک شخص بھی کوئی ایک دلیل بھی قرآن و حدیث کی روشنی میں پیش نہیں کر سکا جس سے یہ ثابت ہو کہ توہین رسالت کرنے والے کی سزا قطعی اور یقینی طور پر قتل ہے۔جن لوگوں کے قتل کی مثالیں پیش کی گئی ہیں ان کے بارے میں کوئی ایک بھی حتمی دلیل نہیں پیش کی گئی کہ انہیں صرف اور صرف تو ہین رسالت کی بنا پر ہی قتل کیا گیا تھا بلکہ خود ہی اس بات کو بھی پیش کرتے ہیں کہ ان کے اس کے علاوہ یہ بھی جرائم تھے اور و ہی جرائم ایسے تھے جن کی سزا اسلام قتل بیان کرتا ہے جس پر کسی کو اعتراض بھی نہیں ہو سکتا۔ایسی تمام مثالیں پیش کر دی گئی ہیں۔دوسرا مسئلہ ذقی کا ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ذمی اگر تو بین رسالت کرے تو اسے قتل کیا جائے گا، نہ اس پر احسان کرنا جائز ہے اور نہ فدیہ لینا روا ہے۔اس سلسلہ میں بھی جو اختلاف پایا جاتا ہے اسے پیش کیا گیا ہے۔اور خود ہی اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ ذقی عبد شکنی کر کے جب حربی ہوگا تو قتل کیا جائے گا۔اور دوسری طرف یہ بھی ثابت کیا جاچکا ہے کہ اگر کوئی ذمّی