اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 246
246 ۲۔دوسری دلیل کے طور پر کعب بن اشرف کے قتل کے واقعہ کی حدیث کو پیش کیا گیا ہے۔کعب بن اشرف وہ شخص ہے جس نے میثاق مدینہ پر دستخط کئے اور یہ معاہد تھا۔بخاری شریف میں آیا ہے کہ مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان نے انہوں نے عمر سے انہوں نے جابر بن عبداللہ سے انہوں نے آنحضرت علیم سے آپ نے فرمایا کعب بن اشرف کے لئے کون کافی ہے۔محمد بن مسلمہ نے کہا کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اسے قتل کروں فرمایا ہاں، انہوں نے کہا تو پھر مجھے اجازت دیجئے کہ جو چاہوں کہوں آپ نے فرمایا اجازت ہے۔“ ( صحیح بخاری مترجم جلد دوم پاره ۱۲ کتاب الجہاد والسیر صفحه ۱۶۱و۱۶۲ حدیث نمبر ۲۰۲ باب الفتك باهل الحرب اعتقاد علیشنگ ہاؤس پی دیلمی ) 66 امام بخاری نے اس حدیث کو جس باب کے تحت پیش کیا ہے اس کا مطلب ہے ”حربی کافر کو اچانک دھوکے سے مارنے اس باب کو دیکھنے کے ساتھ ہی کعب بن اشرف کے قتل کی وجہ کا علم ہو جاتا ہے کہ شخص حربی تھا۔تفصیل آگے پیش کی جائے گی۔تاریخ اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ بدر کی جنگ نے جس طرح مدینہ کے یہودیوں کی دلی عداوت کو ظاہر کر دیا تھا یہ کسی سے چھپی تھی اور یہ لوگ اپنی شرارتوں اور فتنہ پردازیوں میں ترقی کرتے گئے۔چنانچہ کعب بن اشرف کے قتل کا واقعہ اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔کعب گومذہباً یہودی تھا لیکن دراصل یہودی النسل نہ تھا، بلکہ عرب تھا۔اس کا باپ اشرف بنو نبہان کا ایک ہوشیار اور چلتا پرزہ آدمی تھا جس نے مدینہ میں آکر بنو نضیر کے ساتھ تعلقات پیدا کئے اور ان کا حلیف بن گیا اور بالآخر اس نے اتنا اقتدار اور رسوخ پیدا کرلیا کہ قبیلہ بنونضیر کے رئیس اعظم ابو رافع بن ابی الحقیق نے اپنی لڑکی اسے رشتہ میں دیدی۔اسی لڑکی کے بطن سے کعب پیدا ہواجس