اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 233 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 233

233 بعید از قیاس نہیں ہے۔ان روایات پر غور کرتے ہوئے ان امور کو یادرکھنا بہت ضروری ہے کہ اوّل یہ عورت یہود یہ تھی۔دوم یہ کہ اس کی حیثیت ذمی کی تھی۔سوم یہ کہ اس عورت کا تعلق یہود کے قبیلہ بنو قینقاع سے تھا اور یہ وہ قبیلہ تھا جس نے مسلمانوں کے ساتھ کئے گئے عہد کو سب سے پہلے توڑا تھا۔چہارم یہ کہ یہ یہودیہ مدینہ میں ایک مسلمان کے گھر تھی اور اس نابینا شخص کے بچوں کی ماں تھی۔پنجم یہ کہ اس قتل کا مقدمہ رسول کریم علیم کے سامنے پیش ہوا تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے رحمتہ العالمین بنا کر بھیجا تھا۔ششم یہ کہ اس حدیث میں ایسا کوئی لفظ دکھائی نہیں دیتا کہ جس سے یہ ظاہر ہوتا ہو کہ رسول کریم علی نے اس فعل کو قابل تحسین ٹھہرایا ہو۔ہفتم یہ کہ کسی عالم نے بھی اس حدیث کے پیش کرنے کے ساتھ کوئی بھی ایسی حدیث پیش نہیں کی کہ اور نہ ہی کر سکتے ہیں کہ رسول کریم مالی یا لیلی نے ایسا فعل کرنے والے کو قتل کرنے کا حکم صادر فرمایا ہو۔اور نہ ہی ایسی کوئی حدیث پیش کی ہے یا کی جاسکتی ہے کہ یہ قتل رسول کریم علیم کے حکم سے کیا گیا ہے۔یا آئندہ ایسی گستاخی کرنے والے کے لئے قتل کو جائز ٹھہرایا ہے۔تمام مسلمان اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ جب رسول کریم علیم نے ملکہ سے مدینہ ہجرت فرمائی تو آپ نے مدینہ میں پہنچ کر سب سے پہلا کام ہی یہ کیا تھا کہ آپ نے مدینہ کے اندر اور قریب قریب میں یہود کے جو قبیلے آباد تھے ان کے ساتھ ایک معاہدہ کیا اور یہود کو بھی آپ نے اس معاہدہ پر پابند رہنے کو کہا اور خود مسلمانوں کی طرف سے آپ نے اس کی ذمہ داری لی۔وہ معاہدہ کیا تھا اس جگہ میں درج کرنا مناسب خیال کرتا ہوں تا کہ اس معاہدہ کی روشنی میں غور کیا جا سکے۔کیونکہ توہین رسالت کے جرم میں قتل کئے جانے کے ثبوت کے طور پر جن لوگوں کی سزاؤں کا ذکر کیا جاتا ہے ان میں سے اکثر کا تعلق ان معاہد سے ہے جو یہود اور