اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 167 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 167

167 زمی امام ابن تیمیہ نے شاتم رسول کرنے والے کی جو تیسری شق بیان کی ہے اس کا تعلق زمی سے ہے۔اگر دیکھا جائے تو آپ کی کتاب "الصارم المسلول علی شاتم الرسول میں جس شق پر سب سے زیادہ بحث کی ہے اس کا تعلق زقی سے ہے۔بلکہ اصل بات یہ ہے کہ یہ ساری کی ساری کتاب زنی کے گرد ہی گھومتی ہے۔جن دو موضوعات پر اوپر بحث کی گئی ہے وہ اس کتاب کے 114 حصہ پر محیط ہونگے اور باقی کی ساری بحث ہی زخمی کو لیکر کی گئی ہے۔لیکن حیرت کی بات ہے کہ موجودہ دور میں شاتم رسول یا تو بین رسالت کے عنوان پر لکھی جانے والی کتب میں اس موضوع کو یکسر نظر انداز کر کے اپنے ذہن میں بسے اسلامی نظریہ کو ادھر ادھر سے کھینچ تان کر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور ساری کی ساری بات امام ابن تیمیہ کی کتاب کی طرف منسوب کر دی ہے۔امام ابن تیمیہ نے جس نظریہ کو ایک خاص گروہ کے ساتھ باندھ کر اپنی کتاب میں پیش کیا ہے اس کا کسی نے ذکر تک بھی نہیں کیا۔امام ابن تیمیہ نے جس سزا کو ذھی کے ساتھ خاص کر کے بیان کیا ہے اس دور کے علماء نے اس کو ہر کس و ناقص پر نافذ العمل قرار دیا ہے۔جبکہ ذمی اور آزاد شخص کے معاملات میں زمین آسمان کو فرق ہے۔علماء نے اپنے مقاصد کے حصول کی لئے قرآن کریم سے ان آیات کو تو پیش کیا جن کو امام ابن تیمیہ نے زقی اور اس کے نقص عہد اور اس کی سزا کے حوالہ سے پیش کیا۔لیکن دیگر علماء میں سے کسی نے اس بات کا اشاتاً بھی ذکر نہیں کیا کہ اس کا اطلاق صرف ذقی پر ہوگا وہ بھی اس وقت جبکہ وہ نقص عہد کرے۔حالانکہ ہونا یہ چاہئے تھا اور ایمانداری کا تقاضہ تھا کہ جس طرح امام ابن تیمیہ نے اپنی کتاب کو ہر لحاظ سے نکھار کر ہر مسئلہ علیحدہ علیحدہ بیان کیا ہے اس طرح سے بیان کرتے اور یہ