اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 148
148 لام کوخبر دی کہ اب وہ تینوں آدمی چلے گئے ہیں اس وقت آپ تشریف لائے میں بھی آپ کے ساتھ اندر جانے لگا آپ نے اپنے اور میرے بیچ میں پردہ ڈال لیا ( آڑ کر لی ) اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔یأیها الذین امنوا لا تدخلوا بيوت النبی آخر تک ( صحیح بخاری مترجم جلد دوم پاره ۱۹ کتاب التفسیر صفحه ۹۷۱ شائع کرده اعتقاد پبلیشنگ ہاؤس دہلی ) امام بخاری نے قرآن کریم کی اس آیت کی روشنی میں پانچ احادیث درج فرمائی ہیں جن کا نفس مضمون ایک ہی طرح کا بیان ہوا ہے اور کسی روایت سے بھی وہ مطلب ظاہر نہیں ہوتا جس کو امام ابن تیمیہ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے۔جوازواج رسول یا لونڈیوں سے شادی کرے اسے قتل کر دیا جائے۔قرآن کریم کے ایک واضح حکم کے بعد کون مسلمان اس کی خلاف ورزی کر سکتا تھا۔اور پھر ان آیات میں اور کسی حدیث میں بھی یہ حکم نہیں دیا گیا کہ ان باتوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کو جو قرآن کریم کی اس مذکورہ آیت میں بیان کی گئی ہیں قتل کر دیا جائے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں اس آیت کے آخر پر بیان کرتا ہے کہ اِن ذُلِكُمْ كَانَ عند الله عظیماً یعنی یہ بات اللہ کے فیصلہ کے مطابق بہت بری ہے۔اور بندوں کو کسی قسم کی سزا دینے کا حکم نہیں دیا۔ہاں یہ باتیں اللہ کے فیصلہ کے مطابق بری ہیں وہ خود ہی اس کی سزا بھی دیگا۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ قرآن کریم کے کسی حکم کی خلاف ورزی کرنے کے نتیجہ میں جن کا اوپر ذکر گزرا ہے کسی ایک مقام پر بھی ایسا کوئی حکم نہیں کہ خلاف ورزی کرنے کے نتیجہ میں کسی کے کافر ہو جانے پر اسے قتل کر دیا جائے۔جبکہ قرآن کریم نے ایک اصول بیان کر دیا ہے کہ ہم نے ھدایت اور گمراہی کو الگ الگ کر کے بیان کر دیا ہے اب جو چاہے ایمان لائے اور جو