اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 107
107 شاتم رسول اور توہین رسالت کرنے والے کی سزا یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس میں بہت سی کتب منظر عام پر آچکی ہیں۔اور اکثر مصنفین نے اس بات پر ہی زور دیا ہے کہ ہر شاتم رسول کی اور توہین رسالت اور توہین قرآن کرنے والے کی سزا قتل ہے۔آئے دن ایسے واقعات دکھائی دیتے ہیں کہ کوئی نہ کوئی بد باطن یا بدطینت ہمارے پیارے بنی مصلم کی شان میں گستاخی کرتا ہے جس کے نتیجہ میں مسلمانوں میں اشتعال پیدا ہوتا ہے اور علماء کی طرف سے قتل کے فتوے جاری ہوتے ہیں۔بعض اوقات احتجاجات کے نتیجہ میں خود مسلمانوں ہی کو جان کی قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔علماء کی طرف سے فتوؤں کا جاری ہونا ہی دینا میں اسلام کی بدنامی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔تو بین کرنے والوں کو تو تحفظ فراہم ہوجاتا ہے لیکن ان کے خلاف احتجاج کرنے والے جو کہ اسلام کے نام پر اور محبتِ رسول عالم میں مر مٹنے کو تیار ہوتے ہیں مخالفین اسلام کے نشانے پر آکر پوری دنیا میں بدنام ہونے کے ساتھ ساتھ جان کی قربانیاں بھی پیش کرتے ہیں۔اسی طرح بعض مفکرین اسلام اس بات کو بھی با دلائل پیش کرتے ہیں کہ تو بین رسالت کرنے والے یا شاتم رسول کے سزا قتل نہیں ہے اور اس کا اسلام میں کوئی جواز نہیں پایا جاتا۔ان کی دلیل یہ ہے کہ اسلام انصاف ہر مبنی دین ہے اور کسی پر کسی قسم کی زیادتی کی اجازت نہیں دیتا۔مخالفین اسلام جس قسم کا ہتھیار استعمال کرتے ہیں اسلام مقابلہ کے لئے اسی طریق سے دفاع کا حکم دیتا ہے۔اگر کوئی قلم کا استعمال کرے تو اس کا قلم سے جواب دیا جانا چاہئے اور اگر کوئی اسلام کے خلاف تلوار اٹھاتا ہے تو اس کے خلاف تلوار سے دفاع کی اجازت دیتا ہے۔اسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ زبان اور قلم کے بالقابل تلوار اٹھائی جائے۔قرآن کریم اس بات کو کئی مقام پر بیان فرماتا ہے کہ جان کے بدلے جان ، دانت کے بدلے دانت ، آنکھ