اسلام کا وراثتی نظام — Page 177
122 نوٹ ب: جب مورث چوتھی یا اس کے بعد کی کسی پشت کی اولا د چھوڑ جاتا ہے، تو جو عمل اوپر کی مثال میں کیا گیا ہے وہ ہر ایسے موقع پر کیا جائے گا جہاں جنسوں کو ایک جگہ جمع کر لینے کی ضرورت پڑے۔ایسی صورتیں عملاً بہت ہی کم پیش آتی ہیں اس لئے اس قسم کی اوپر والی ایک ہی مثال پر اکتفا کیا جاتا ہے جس کی مدد سے اسی قسم کی باقی تمام صورتیں بھی حل کی جاسکتی ہیں۔ذوی الارحام کا دوسرا درجہ اگر ذوی الفروض اور عصبہ اور ذوی الارحام درجہ اول میں سے کوئی بھی موجود نہ ہو تو پھر تمام جائداد ذوی الارحام درجہ دوم کے ارکان میں بلحاظ قوت قرابت تقسیم ہوتی ہے اس درجہ کے ارکان میں وراثت کی تقسیم کے قواعد حسب ذیل ہیں۔قریب تر بعید تر کو محجوب کرتا ہے۔(الا قرب ثم الا قرب) ނ ایک ہی درجہ کا دعویداروں میں سے۔ان دعویداروں کو جن کا تعلق متوفی بذریعہ ذوی الفروض ہے ان دعویداروں پر جن کا تعلق ذوی الارحام کے ذریعے سے ہے فوقیت حاصل ہے۔اگر دعویدار میں کچھ دعویدار پدری سلسلے کے ہیں اور کچھ مادری سلسلہ کے تو پدری سلسلہ والوں کو جائداد کا ۲/۳ اور مادری سلسلہ والوں کو ۱/۳ دیا جاتا ہے اور اگر تمام دعویدار ایک ہی سلسلہ کے ہیں تو پھر تمام جائداد کے وارث وہی ہیں اور جائدادان میں للذكر مثل حظ الانثیین کے تحت تقسیم ہوگی۔امام ابو یوسف کا اصول تین پشتوں تک درمیانی مورثوں کے مختلف الجنس ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اس لئے تین پشتوں تک دونوں اماموں کا ایک ہی مسلک ہے چوتھی پشت میں اختلاف ممکن ہے جس کا اثر پانچویں پشت کے ارکان پر پڑ سکتا ہے، لیکن عملاً اتنی دور تک وراثت کا سلسلہ شاذ ہی چلتا ہے اس لئے ان کی مثالیں بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔