اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 175 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 175

۱۷۵ دوسری بیٹی کی بیٹی کا حصہ = 1/0 1/0 تیسری بیٹی کی بیٹی کا حصہ = ۱/۵ متینوں مورث عورتوں کا مجموعی حصہ = چوتھی بیٹی کی بیٹی کا حصہ 5 = + + + + ۱/۵ 1/0 = اب بیٹی کا بیٹا چونکہ اکیلا ہے اس لئے اس کا ۲/۵ حصہ اس کی اولا د یعنی بیٹے کو مل جائے گا باقی تین بیٹیوں کا مجموعی حصہ (۳/۵) ان کی اولادوں میں للذكر مثل حظ الانثیین کے مطابق تقسیم ہو گا اس لئے الف۔پہلی بیٹی کے بیٹے کے بیٹے کا حصہ = 5 II شاء ب۔دوسری بیٹی کی بیٹی کی بیٹی کا حصہ = 20 LG LG LG = + x || ج۔تیسری بیٹی کی بیٹی کے بیٹے کا حصہ = =x چوتھی بیٹی کی بیٹی کی بیٹی کا حصہ = = x = = نوٹ : امام ابو یوسف کی رائے کے مطابق یہ حصے بالترتیب ،٢/٦، ١/٦ ١/٦، ٢/٦ اور ہوں گے یعنی پچھلی مثال والے ہی ہوں گے۔کیونکہ امام ابو یوسف درمیانی مورثوں کی جنس کے اختلاف کو ملحوظ نہیں رکھتے۔بعض مزید صورتیں بھی ممکن ہیں مثلاً کسی درمیانی مورث کے ذریعہ سے بعض دفعہ دو یا دو سے زائد دعویدار ہو سکتے ہیں ایسی حالت میں مندرجہ بالا قواعد کے ساتھ یہ مزید قاعدہ زیر عمل آئے گا کہ ہر ایسے مورث کے لئے اگر وہ مرد ہو، اتنے ہی مرد فرض کر لیں جتنے اس مورث کے ذریعے سے دعویدار بنتے ہیں اور اگر وہ مورث عورت ہے تو اتنی ہی عورتیں فرض کر لیں جتنے اس کے ذریعے سے دعویدار بنتے ہیں۔ایسا فرض کرنے میں دعویداروں کی جنس کا کوئی لحاظ نہیں رکھا جا تا۔مثال نمبر 1: ایک میت نے اپنی ایک بیٹی کے دو پوتے اور دوسری بیٹی کے دو نو ا سے اور ایک نواسی وارث چھوڑے ہر ایک کا حصہ بتاؤ۔