اسلام کا وراثتی نظام — Page 171
پہلی پشت دوسری پشت تیسری پشت ۲/۴ ا بیٹی ۱/۴ بیٹی بیٹا ج اس مثال میں بھی دوسری پشت میں ہی مورثوں کی جنس میں اختلاف پیدا ہو جاتا ہے اس لئے یہیں مرد کو عورت سے دگنا حصہ دے دیتے ہیں۔اس لئے بیٹی کے بیٹے کا حصہ = ۲/۴ = ۱/۲ دوسری بیٹی کی بیٹی کا حصہ تیسری بیٹی کی بیٹی کا حصہ ۱۴ مورث عورتوں کا مجموعی حصہ = ۱/۲ = ۱/۴ = اب بیٹی کا بیٹا اکیلا ہے اس لئے اس کا حصہ (۱/۲) اس کی بیٹی حاصل کرے گی۔دو مورث عورتیں یعنی بیٹیوں کی بیٹیاں ہیں جو ایک ہی جنس کی ہیں اور ان کے حصوں کے مجموعہ ۱/۴ + ۱/۴ - ۱/۲ ہے جو اُن کی اولاد میں یعنی بیٹی کی بیٹی کے بیٹے اور بیٹی کی بیٹی کی بیٹی کے در ميان للذكر مثل حظ الانثیین کے تحت تقسیم ہو گا یعنی یہ نصف (۱/۲ حصہ ) ان کے درمیان دو اور ایک کی تقسیم سے تقسیم ہو گا۔اس لئے بیٹی کی بیٹی کے بیٹے کا حصہ بیٹی کی بیٹی کی بیٹی کا حصہ = += + x + = اور ہم پہلے معلوم کر چکے ہیں کہ بیٹی کے بیٹے کی بیٹی کا حصہ = ہے یعنی جائداد کے کل چھ سہام ہوں گے اور نقشہ کے مطابق الف کو ۳ سہام ، ب کو ۲ سہام اور ج کو ایک سہم ملے گا۔نوٹ : امام ابو یوسف کی رائے کے مطابق یہ حصے علی الترتیب ۱/۲،۱/۴ اور ۱/۴ ہوں گے۔