اسلام کی کتب (پانچویں کتاب) — Page 39
وصیت اور ہبہ ہر شخص جو اپنے مال کا مالک ہے اسے اپنے مال کے متعلق پورا اختیار حاصل ہے کہ وہ جس طرح چاہے اپنے مال کو اپنے استعمال میں لائے۔خواہ کسی کو اپنی زندگی میں ہی ہبہ ( بخشش ) کر دے یا کسی کے حق میں یہ وصیت ( اپنے ورثاء کو تاکید کر جائے کہ میری وفات کے بعد میرے مال میں سے اس قدر مال فلاں شخص کو دے دیا جائے پھر اس کے ورثاء کا فرض ہوگا کہ وہ اس کی وصیت پر عمل کریں۔اور اس کے مال میں سے اسی قدر حصہ اس کو (جس کے حق میں اس نے وصیت کی ہو ) دے دیں اور ذرہ بھر بھی اس کے حکم کے خلاف نہ کریں۔اگر ذرہ بھر بھی خلاف کریں گے تو گناہ گار ہوں گے۔موصی ( وصیت کرنے والا ) زیادہ سے زیادہ تیسرے حصہ کی وصیت کر سکتا ہے۔اس سے زیادہ حصہ کی وصیت کرنے کا اسے حکم نہیں۔اور وارث کے لئے بھی وصیت نہیں ہوسکتی۔موصی اپنی زندگی میں وصیت میں کمی و بیشی کر سکتا ہے۔اور منسوخ بھی کر سکتا ہے۔مگر ہبہ کر دینے والے کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ کچھ واپس لے سکے۔آج کل ہبہ اور وصیت کرنے والوں کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشاد کے مطابق اپنے مال کی وصیت اشاعت [39]