اسلام کی کتب (پانچویں کتاب) — Page 5
ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُوْلَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا ، پڑھے پھر اس کے ط بعد اعلان کرے کہ فلاں عورت کا نکاح فلاں مرد سے اتنے مہر پر ہونا قرار پایا ہے۔پھر ان ہر دو سے دریافت کرے کہ کیا انہیں یہ نکاح منظور ہے؟ اگر وہ اقرار کریں کہ انہیں منظور ہے تب نکاح ہوتا ہے۔اسے اصطلاح میں ایجاب وقبول کہتے ہیں۔چونکہ عورتوں کو پردہ کا حکم ہے لہذ اعورت کی طرف سے اس کا ولی ایجاب وقبول کرے گا۔عورت کا مجلس میں ہونا ضروری نہیں۔اسی طرح بعض (بقیہ ترجمہ) اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو کہ وہ ذات پاک وہ ہے کہ جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا۔اور اسی سے اس کے لئے بیوی بنائی۔اور پھر اُن سے (اولاد پیدا کر کے ) بہت سے مرد اور عورتیں بنا کر پھیلا دئے۔اور تم اللہ سے ڈرو۔جس کا واسطہ دے کر مانگتے ہو۔اور رشتہ داروں سے بھی۔(دیکھو اگر خلاف شریعت کام کرو گے تو اللہ تعالیٰ ہر وقت تم پر نگہبان ہے۔اے مومنو اللہ سے ڈرو۔اور چاہئے کہ ہر شخص محاسبہ کرتار ہے کہ قیامت کے دن کے لئے اُس نے کیا جمع کیا ہے۔اللہ سے ڈرو۔کیونکہ وہ تمہارے اعمال سے خبر دار ہے۔اے مومنو! اللہ سے ڈرو۔اور سیدھی باتیں کیا کرو۔وہ تمہارے اعمال بھی درست کر دے گا۔اور تمہارے گناہ بھی معاف کر دے گا۔اور (دیکھو) جو اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول کی بتائی ہوئی باتوں پر عمل کر یگا تو یقینا وہ کامیاب ہو جائے گا۔ے نکاح پر مبارک دینے کے مسنون الفاظ یہ ہیں : - بَارَكَ اللهُ وَبَارَكَ عَلَيْكَ وَجَمَعَ بَيْنَكُمَا فِي خَيْر - ( حدیث ترمذی ) ترجمہ:- اے مرد ! تجھے یہ نکاح اللہ تعالیٰ مبارک کرے اور تم دونوں پر اپنی برکات نازل فرمائے اور تم دونوں کو باہم شیر وشکر کر دے۔[5]